پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ فروری کے مقابلے میں مارچ میں 98فیصد زائد

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک
(فوٹو: آن لائن)

اسلام آباد: اسٹیٹ  بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دورا ن مارچ کے مہینے  میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب دو کروڑ ڈالر رہا، مارچ کا خسارہ فروری کے مقابلے 98 فیصد زائد تھا۔ 

تفصیلات کے مطابق مرکزی بینک نے رواں سال مارچ میں بیرونی ادائیگیوں سے متعلق اعداعدوشمار جاری کردئیے۔ مارچ میں ملکی درآمدات 6 ارب 24 کروڑ ڈالر تھیں، ملکی برآمدات 3 ارب 7 کروڑ ڈالررہیں،  یوں مارچ کا تجارتی خسارہ 3 ارب 17 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا ۔ 9 ماہ میں پاکستان نے 53ارب 79کروڑ ڈالر درآمدات کیں۔

  یہ بھی پڑھیں:

انٹر بینک میں ڈالر 27 پیسے سستا ہوگیا

 اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان نے  تقریباً 24 کروڑ ڈالرکی برآمدات کیں، نو مہینوں میں ملک کا تجارتی خسارہ 30 ارب ڈالر تھا۔ خدمات اور آمدن کے کھاتوں کا خسارہ شامل کیا جائے تو 9 ماہ کا خسارہ 37 ارب ڈالر تک جا پہنچتا ہے۔ خسارے کی فنڈنگ کیلئے ورکرز ترسیلاتِ زر 22ارب 95 کروڑ ڈالر رہیں۔ 

 مرکزی بینک کے مطابق پاکستان کو ایک ارب 28 کروڑ ڈالر آفیشل اور دیگر کرنٹ ٹرانسفر کی مد میں موصول ہوئے، جس کے بعد نو مہینوں میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ13 ارب 16 کروڑ ڈالر تک جا پہنچا۔ عالمی سطح پر بلند اجناس کی قیمتوں کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ میں کمی کا سلسلہ برقرار ہے۔

مالی اعتبار سے  مارچ کا ایک ارب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں مالی سال کی ماہانہ اوسط سے پچاس کروڑ ڈالر کم ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق خام تیل کی ادائیگی نکالنے کے بعد نان آئل ادائیگیاں مسلسل دوسرے مہینے فاضل رہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ایک ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 98فیصد خسارہ تشویشناک ہے۔ 

Related Posts