مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی صدر کے ایران پر حملے مزید 2 سے 3 ہفتوں تک جاری رکھنے کے اعلان کے بعد اسٹاک مارکیٹ ہل گئی جہاں شدید مندی کا رجحان غالب آگیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز سے ہی کے ایس ای 100 انڈیکس میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی اور ابتدا میں ہی انڈیکس 3763 پوائنٹس کم ہوکر 151748 کی سطح پر آگیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں آج کاروباری ہفتے کے چوتھے روز ابتدائی منفی رجحان کے دوران مزید وقت گزرنے کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس میں منفی رجحان کے باعث 4088 پوائنٹس گر گئے اور انڈیکس 151423 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔
مجموعی طور پر ابتدائی گھنٹوں میں پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 2.63 فیصد کم ہوا جبکہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ کے ایران جنگ سے جلد نکلنے کے بیان کے بعد مارکیٹ میں بڑی تیزی دیکھی گئی تھی۔سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کشیدگی اسٹاک مارکیٹ میں جاری مندی کے رجحان کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاری ایران جنگ کے دوران حملوں کا سلسلہ 2 سے 3 ہفتوں تک جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 1 ماہ میں امریکی فوج نے بہترین کامیابیاں حاصل کیں۔
اپنے حالیہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ہم 2 سے 3 ہفتوں میں ایران میں اپنے اہداف حاصل کرلیں گے۔ آپریشن ایپک فیوری کا مقصد ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ اب تک ایران جنگ میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








