اسمارٹ ڈیوائسز کے ڈیٹا کیلئے قوانین مزید سخت، جانئے پی ٹی اے کی نئی ہدایات

تازہ ترین

تازہ ترین

پی ٹی اے، فائل فوٹو

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) ڈیوائسز کے لیے سخت قوانین متعارف کر دیے ہیں، جس کے تحت تمام گیٹ ویز کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے اور ڈیٹا لوکلائزیشن پر زور دیا گیا ہے تاکہ معلومات پاکستان کے اندر محفوظ رہیں۔

ورژن 1.4 میں مختصر فاصلے والے ڈیوائسز (SRD) اور زمینی IoT خدمات کے لیے نظر ثانی شدہ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت تمام لو پاور وائیڈ ایریا نیٹ ورک (LPWAN) لائسنس یافتگان کو ہر IoT گیٹ وے کی PTA میں رجسٹریشن کرنی ہوگی۔ قوانین کے مطابق IoT ڈیٹا کو بغیر PTA کی پیشگی منظوری کے پاکستان کے باہر اسٹور کرنا ممنوع ہے اور قومی سلامتی کے خدشات کی صورت میں ریگولیٹر فوری طور پر خدمات معطل کر سکتا ہے۔

اپ ڈیٹ شدہ فریم ورک طویل فاصلے کے IoT نیٹ ورکس کی نگرانی مضبوط کرتا ہے، جس کے تحت لائسنس یافتگان کو ہر سال دو بار عملی گیٹ وے کی فہرست جمع کرانی ہوگی اور بیک اینڈ ٹریفک کو PTA کی منظور شدہ لوکل ایکسیس پرووائیڈرز کے ذریعے روٹ کرنا ہوگا۔ LPWAN لائسنس اب کلاس ویلیو ایڈڈ سروسز (CVAS) کے تحت پانچ سال کے لیے جاری ہوں گے، اور ایک سال کے اندر سروس شروع کرنا لازمی ہوگا۔

مشن کریٹیکل IoT خدمات، جیسے کہ عوامی حفاظت، یوٹیلٹیز، اور ٹرانسپورٹ سے متعلق خدمات، صرف مخصوص یا لائسنس یافتہ فریکوئنسی بینڈز پر دستیاب ہوں گی۔ قوانین میں جدت کو بھی فروغ دیا گیا ہے، جس کے تحت اکیڈمیا، حکومت، اور کمپنیاں غیر تجارتی IoT ٹیسٹنگ چھ ماہ تک PTA کی نگرانی میں کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق PTA کے یہ IoT قواعد سائبر سیکیورٹی کو بہتر بنانے، حساس ڈیٹا کے تحفظ، اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی اسمارٹ ڈیوائسز کی دنیا پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔

Related Posts