پنجاب کے گنے کے کاشتکاروں کو تین ارب روپے سے زائد کی رقوم کی ادائیگی تاحال باقی ہے جس کا انکشاف پنجاب کین کمشنر کی مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران مل مالکان نے کاشتکاروں کو تین ارب چار کروڑ 69لاکھ روپے کی واجب الادا رقم ادا نہیں کی حالانکہ قانون کے تحت گنا خریدنے کے بعد پندرہ دن کے اندر مکمل ادائیگی کرنا لازمی ہے۔
آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مل مالکان نے گنے کی خریداری سرکاری نرخ سے کم قیمت پر کی، جو حکومتی قیمتوں کے ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کاشتکاروں کے بقایا جات کی مجموعی رقم تین ارب پانچ کروڑ روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔
یہ انکشافات پنجاب کین کمشنر کے آڈٹ کے دوران سامنے آئے، جبکہ متعلقہ محکمہ کو اکتوبر 2024 میں اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا مگر دسمبر 2024 تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور اسی دوران آڈٹ رپورٹ کو حتمی شکل دے دی گئی۔
یہ معاملہ نہ صرف کسانوں کے معاشی استحصال کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ حکومتی نرخ اور ادائیگی قوانین کی عدم عملداری پر بھی سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








