اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کا پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں انتخابات سے متعلق ازخود نوٹس کیس میں تفصیلی نوٹ جاری کردیا گیا۔
جسٹس اطہرمن اللہ نے تفصیلی نوٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو اپنی انا ایک طرف رکھ کر آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔سیاست دان مناسب فورمز کے بجائے عدالت میں تنازعات لانے سے ہارتے یا جیتتے ہیں لیکن عدالت ہرصورت ہار جاتی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق وقت آگیا ہے کہ تمام ذمہ دار ایک قدم پیچھے ہٹیں اور کچھ خود شناسی کا سہارا لیں،سپریم کورٹ نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا، سپریم کورٹ سمیت تمام اداروں کو آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے،ملک ایک سیاسی اور آئینی بحران کے دہانے پرکھڑا ہے۔
تفصیلی نوٹ کے مطابق
پنجاب،کے پی انتخابات کی تاریخ کا ازخود نوٹس خارج کیا جاتا ہے، درخواستوں اور از خود نوٹس کو خارج کرنیکی تین بنیادی وجوہات ہیں، فل کورٹ کی جانب سے آرٹیکل 184 تھری کے استعمال کے بنیادی اصولوں کی پابندی بینچ پرلازم تھی۔
درخواست گزاروں کا رویہ اس بات کا متقاضی نہیں کہ 184/3کا اختیار سماعت استعمال کیا جائے، عدالت کو اپنی غیر جانبداری کے لیے سیاسی جماعتوں کے مفادات کے معاملات پر احتیاط برتنی چاہیے، عدالت کو سیاسی درخواست گزار کا طرز عمل اور نیک نیتی بھی دیکھنی چاہیے۔
جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق انتخابات کی تاریخ کامعاملہ ایک تنازع سے پیدا ہوا ہے جو بنیادی طور پر سیاسی نوعیت کا تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے درست کہا کہ عدالت کو ازخودنوٹس کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، سپریم کورٹ کو یکے بعد دیگرے تیسری بار سیاسی نوعیت کے تنازعات میں گھسیٹا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ازخود نوٹس لینے کا مطلب غیر جمہوری اقدار اور حکمت عملی کو فروغ دینا ہوگا، ماضی کے فیصلوں کو مٹایا نہیں جاسکتا لیکن کم ازکم عوامی اعتماد بحال کرنیکی کوشش کی جاسکتی ہے۔
تفصیلی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ 23 فروری کی سماعت کے حکم میں جسٹس یحییٰ آفریدی کا الگ نوٹ بھی تھا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے ناقابل سماعت ہونیکی بنیاد پر ازخود نوٹس اور درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔
جسٹس اطہر من اللہ کے مطابق واضح رہے کہ بینچ سے الگ ہوا نہ ہی اپنے مختصرنوٹ میں ایسی کوئی وجوہات دی تھیں، میں نے بھی اپنے نوٹ میں درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے کے بارے میں بلا ہچکچاہٹ رائے دی، جسٹس منصور اور جسٹس مندوخیل کی تفصیلی وجوہات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں،عدالت کو سیاسی تنازع سے بچنے کے لیے اپنے نوٹ میں فل کورٹ کی تشکیل کی تجویز دی تھی، فل کورٹ کی تشکیل سے عوامی اعتماد قائم رہتا۔
مزید پڑھیں:مقدمات کی تفتیش، جے آئی ٹی نے عمران خان و دیگر رہنماؤں کو آج پھر طلب کرلیا
پنجاب،کے پی الیکشن کا از خود نوٹس چار تین سے مسترد ہوا، میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال مندوخیل کی رائے سے متفق ہوں، سپریم کورٹ مسلسل سیاسی تنازعات کے حل کا مرکز بنی ہوئی ہے، 27 فروری کو چائے کے کمرے میں اتفاق رائے ہوا کہ میں بینچ میں بیٹھوں گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








