ایک ایسے وقت میں جب تمام کاروباری سرگرمیاں منجمد اور معیشت کا پہیہ جام ہوچکا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار معدوم ہوچکی ہے ایسے میں پالیسی سازوں کے پاس مائیکرو ،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (MSME) کے فروغ ، حمایت اور ان کوسہولیات دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے ۔
چھوٹے کاروباری افراد موجودہ حالات میں بیکار نہیں بیٹھیں گے اور اپنی بقا کے لئے کورونا وائرس کے چیلنجوں کا سامنا کریں گے ، ایسے میں پالیسی بنانے والوں کو پہیے کو آگے بڑھاتے رہنے کے لئے ان کی حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون بری طرح مشکلات سے دوچار معیشت کے لئے حیرت انگیز ثابت ہوسکتی ہے ۔
حکومت کو ایم ایس ایم ای سیکٹر میں نچلی سطح پرکام کرنا ہوگا اور اس کا آغاز زراعت سے ہونا چاہئے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ ہائیڈروپونک کھیتی باڑی کو اولین ترجیح دی جائے۔
ہمیں ایم ایس ایم ای کے کاشتکاروں کو ہائیڈروپونک کاشتکاری کے فوائد کے بارے میں آگاہ کرنے اور اسے متوازی نظام کے طور پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ ایک بار جب کسان سمجھ جائیں کہ یہ کتنا آسان اور محفوظ ہے تواپنی زمینوں کی حفاظت کرتے ہوئے آہستہ آہستہ اس طریقہ کار کو اپنا لیں گے۔
ہائیڈروپونک کھیتی باڑی ہر طرح کی کمی کو پورا کرسکتی ہے اور گرین ہاؤسس سے لے کر سوپر اسٹورز تک باقاعدہ فراہمی کی ضمانت دے سکتی ہے اور ہر جگہ شیلف کو بھر سکتی ہے۔
دوم ہمیں سمندری خوراک کے تمام وسائل کو استعمال کرنے اور ماہی گیری کی صنعت کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے ٹرالر پرانے ہیں اور ہمیں ریفریجریشن اور جدید کیچنگ اور ماہی گیری کیلئے سازوسامان کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔
ہمارے ملک میں مویشی پالنے کی صنعت کو نظرانداز کیا جاتا ہے اور اس پر توجہ نہیں دی جاتی ہے جس کی وہ مستحق ہے۔ کاشتکاروں کو مویشی پالنے کی ترغیب دی جانی چاہئے اور تیزی سے نشوونما کے لئے خوراکی اور غذائیت کی اقدار پر بہترین دیکھ بھال کی تعلیم دینی چاہیے ۔
ہماری پولٹری کی صنعت کی حالت بھی قابل رحم ہے اور مرغی کے علاوہ ہمیں برآمدات کے لئے تیتر، بٹیر اور شتر مرغ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سارے ممالک میں ان کی بہت زیادہ مانگ ہےاور ویلیو ایڈیشن کا تصور بھی ضروری ہے ۔
تاجروں کو جدید بینکاری ، لیز ، انشورنس اور لاجسٹک مددفراہم کی جانی چاہئے۔فارم ہاؤسز کے لئے پلانٹ اور آلات کے لئے لیز کی سہولت ،ہوا اور بائیو ماس نظام جیسے متبادل توانائی اورزمین فراہم کرنے کے لئے ایک جامع سپورٹ پالیسی کی ضرورت ہے ۔
حکومت ملک میں معاشی انجماد سے بخوبی واقف ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ایم ایس ایم ایز سیکٹر کی سرپرستی کی جائے اور چھوٹے اور درمیانے کاروبارکی حمایت کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ سیکٹر مطلوبہ نتائج نہ دے سکے۔
ایک حتمی تجویز یہ ہے کہ درمیانے درجے کے تاجروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے کیونکہ وہ متبادل درآمدی صنعتوں کو قائم کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ ویلیو ایڈیشن بیورو کا قیام بھی ضروری ہے اور اسے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) کے تحت قائم کیا جاسکتا ہے۔
ہم پوری امید کرتے ہیں کہ حکومت ایم ایس ایم ای کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اپنی تمام تر کاوشیں ضرور بروئے کار لائے گی۔