آپریشن جاسمین میں ملے حیران کن شواہد! منشیات کا استعمال پاکستانی کھلاڑیوں کو لے ڈوبا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) نے قومی ویٹ لفٹنگ ٹیم کے کئی کھلاڑیوں اور عہدیداروں پر ڈوپنگ قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے باعث پابندی عائد کر دی۔یہ کارروائی ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) اور انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (ITA) کی رپورٹس موصول ہونے کے بعد کی گئی۔

ترجمان کے مطابق جن کھلاڑیوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں شرجیل بٹ، عبد الرحمن، غلام مصطفیٰ اور فرحان مجید شامل ہیں جبکہ سابق صدر پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن حافظ عمران بٹ اور کوچز عرفان بٹ اور وقاص اکبر پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

عائد کی گئیں تمام پابندیاں چار سال کے لیے مؤثر ہوں گی۔ اس دوران یہ کھلاڑی اور عہدیدار کسی بھی قومی یا بین الاقوامی مقابلے میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔

یہ اقدام آپریشن جاسمین کے تحت ہونے والی تحقیقات کے بعد سامنے آیا جو 2021 میں WADA اور ITA نے مشترکہ طور پر شروع کی تھیں۔

نومبر 2021 میں مذکورہ چار پاکستانی ویٹ لفٹرز نے ٹیسٹ دینے سے بچنے کی کوشش کی تھی جس پر تحقیقات کا آغاز ہوا۔ بعد میں اگست 2024 میں سابق صدر حافظ عمران بٹ اور کوچ عرفان بٹ پر ممنوعہ ادویات رکھنے اور استعمال کرنے کے الزامات لگے۔ فروری 2025 میں کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت (CAS ADD) نے نائب صدر امجد امین بٹ (مرحوم) اور کوچ وقاص اکبر پر بھی چار سال کی پابندی عائد کی۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے مطابق حاصل شدہ شواہد سے ڈوپنگ کی متعدد خلاف ورزیاں واضح طور پر ثابت ہو چکی ہیں۔ ادارے نے کہا کہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کو پہلے بھی متعدد بار وضاحتیں دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا مگر تسلی بخش جواب نہیں ملا۔

پی ایس بی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شفاف اور صاف کھیل کے فروغ کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

Related Posts