سیاہ معیشت کا سدباب

تازہ ترین

تازہ ترین

حکومت نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے ایک رپورٹ کے انکشاف کے بعد کہ ڈالر کی اسمگلنگ اور سیاہ دھن کے باعث معیشت کا جنازہ نکل رہا ہے۔ وزیراعظم نے یہ بھی اعتراف کیا کہ بیوروکریٹس اور سیاستدان ان سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس سے ریاستی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا ہے۔ سرحد پار منشیات کی اسمگلنگ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ ایک سابق پولیس اہلکار اربوں روپے کی جائیدادوں کا مالک تھا اور منشیات اسمگل کرتا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے ایسے افراد کی فہرست تیار کر لی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اعلیٰ عہدے دار ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث تھے اور 20,000 گاڑیوں کا نیٹ ورک استعمال کیا گیا تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے ذمہ دار لوگ بغیر کسی خوف و خطر یہ امور انجام دے رہے ہیں۔

انٹیلی جنس بیورو کی اسمگلنگ، ٹیکس چوری، منشیات کی تجارت اور غیر قانونی کرنسی سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ مافیاز ملکی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔اسے ”معاشی دہشت گردی“ قرار دیا گیا ہے جو قوم پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔ صرف ایرانی پیٹرول کی غیر قانونی سپلائی سے قومی خزانے کو 225 ارب روپے کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔اسمگل شدہ ایرانی تیل پہلے سڑکوں کے کنارے فروخت کیا جاتا تھا لیکن اس نے باقاعدہ پٹرول پمپوں تک بھی رسائی حاصل کرلی ہے۔

رپورٹ میں تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ٹرانسپورٹرز اور اسمگلروں اور اسمگل شدہ پیٹرول فروخت کرنے والے تقریباً ایک ہزار غیر قانونی پیٹرول پمپس کی نشاندہی کی گئی۔ضروری ہے کہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن ان گاڑیوں کو ٹوکن دینے والے اہلکاروں اور ان کی سرپرستی کرنے والوں کی بھی نشاندہی کی جائے۔ اسمگلنگ کی ایک اور بڑی وجہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا غلط استعمال ہے۔

حکومت افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر نظرثانی کرے۔ افغانستان کے سالانہ تجارتی حجم میں 4 بلین ڈالر کا فرق منشیات کی تجارت اور کرنسی کی اسمگلنگ سے پورا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ چائے، تمباکو، ٹائر، گندم، چینی، کھاد اور اشیا بھی پڑوسی ملک میں سمگل ہو رہی ہیں۔ پاکستان کو اگر آگے بڑھانا ہے تو اس کالے دھن کو روکنا ہوگا، ضرورت اس امر کی ہے کہ ناجائز کاروبار میں ملوث مافیاز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکومت کو ان شعبوں کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی تضاد کو دور کیا جا سکے۔

Related Posts