افغان حکومت معاشی مسائل کے حل کیلئے متحرک، طالبان وفد کا جنیوا کا دورہ

تازہ ترین

تازہ ترین

افغان حکومت معاشی پابندیوں سے نکلنے کیلئے متحرک، طالبان وفد کا جنیوا کا دورہ
افغان حکومت معاشی پابندیوں سے نکلنے کیلئے متحرک، طالبان وفد کا جنیوا کا دورہ

افغان حکومت معاشی مسائل کے حل کیلئے متحرک ہے، طالبان وفد غیر سرکاری میزبانی میں انسانی ہمدردی اور انسانی حقوق پر 7 روزہ مذاکرات کیلئے جنیوا پہنچ گیا۔

تفصیلات کے مطابق افغان وفد سوئس حکام اور دیگر یورپی سرکاری حکام کے علاوہ ریڈ کراس کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرے گا، تاہم سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ  خارجہ کا کہنا ہے کہ طالبان وفد کے دورے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم نے طالبان حکومت کو تسلیم کرلیا۔

یہ بھی پڑھیں:

حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج،جنوبی ہندوستان میں اسکول بند کر دیئے گئے

گزشتہ برس اگست سے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے نئی افغان حکومت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ملک مالی افراتفری کا شکار ہے جبکہ عالمی امداد کی روک تھام سے تباہ حال ملک میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔

امریکا اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے باعث افغانستان میں بھوک اور افلاس میں اضافہ ہوا ہے۔ جنیوا کال فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ہم پیر سے جمعے تک در پردہ کانفرنس کی میزبانی کریں گے جس کا مقصد افغانستان میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی میں اضافہ ہے۔

جنیوا کال فاؤنڈیشن کا مزید کہنا ہے کہ کورونا اور عالمی پابندیوں کے باعث پہلے ہی تباہ حال افغانستان کو پیچیدہ ہنگامی صورتحال کا سامنا ہے۔ افغانستان کے 2 کروڑ 30 لاکھ افراد غذائی قلت کے خدشات سے دوچار ہیں جبکہ 97 فیصد آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ 

Related Posts