افغانستان دنیا میں افیون پیدا اور سپلائی کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان کا کہنا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ ہمارے نوجوان نشے کی حالت میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہیں لیکن اب یہاں منشیات کی کاشت ہو گی نہ دوسرے ممالک میں غیر قانونی طریقے سے بھیجی جائے گی۔
طالبان قیادت نے افغانستان میں منشیات کے خاتمت کا عزم کیا ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی طالبان اپنے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوپائینگے؟۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے مطابق افغانستان دنیا کا سب سے بڑا افیون پیدا کرنے والا ملک ہے جو عالمی رسد کا 80 فیصد پیدا کرتا ہے۔
2018 میں یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ افیون کی پیداوار نے ملکی معیشت میں 11 فیصد حصہ ڈالا۔ امریکہ پچھلے 15 سالوں میں افیون اور ہیروئن کی تجارت کو ختم کرنے کے لیے 8 بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے لیکن امریکی حکمت عملی ناکام ہو گئی۔
افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد طالبان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ منشیات کی کوئی پیداوار نہیں ہوگی حالانکہ مسلح گروہ ، جنگجو اور بدعنوان اہلکار منافع اور طاقت کے لیے کوشاں ہیں۔
طالبان نے گزشتہ دور اقتدار میں بھی پوست کی پیداوار پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن انہیں بعد میں اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا اور اب بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طالبان کے لیے منشیات پر مکمل پابندی کا نفاذ ایک مشکل کام ہوگا۔
پچھلے بیس سالوں سے افیون کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور افغانستان نے دنیا کے کسی دوسرے ملک کے برعکس منشیات کی معیشت بنائی ہے۔
2020 میں افغانستان میں تقریباً2 لاکھ24ہزارہیکٹر زمین پر افیون کاشت کی گئی جو کہ ملک کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہےاورملک میں عدم تحفظ ، سیاسی طاقت اور معاشی متبادل کی کمی سمیت کئی عوامل کی وجہ سے مایوس افغانوں کے پاس منشیات کے کاروبار کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔
افیون کی کاشت افغانستان میں روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ شورش کے دوران طالبان نے کسانوں سے افیون کی فصلوں پر ٹیکس کے ذریعے منافع حاصل کیا تھا۔
2019 میں طالبان کو سالانہ 100 سے 400 ملین ڈالر فراہم کرنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔یہ امریکی زیر قیادت افواج کی افیون کی پیداوار اور سپلائی کا راستہ ختم کرنے میں ناکامی تھی جو بالآخر یورپ ودیگر مغربی ممالک کی ناکامی کے ساتھ ختم ہوئی۔
منشیات کے خلاف طالبان کی جنگ پیچیدہ ہے کیونکہ ملک کو معاشی تباہی اور انسانی تباہی کے امکانات کا سامنا ہے۔
عالمی پابندیوں نے افغانستان کو بین الاقوامی اداروں کی مالی مدد کے لیے نااہل بنا دیا ہے۔ افیون کی غیر قانونی تجارت افغانستان کی معیشت اور اس کے بحران سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کیا طالبان منشیات کے تدارک کا وعدہ پورا کرپائینگے۔