طالبان کی ہٹ دھرمی برقرار، سعودی ثالثی میں ہونے والے خفیہ مذاکرات بھی ناکام

تازہ ترین

تازہ ترین

پاک افغان جھنڈے، فائل فوٹو

سعودی عرب کی ثالثی میں پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان خفیہ طور پر خاموشی سے ہونے والے مذاکرات بھی ناکامی سے دوچار ہوگئے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی دہشت گردی کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست مذاکرات کا انتظام کیا، مگر ذرائع کے مطابق یہ اجلاس اتوار کی رات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔

ڈان نیوز کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں بند کمرے میں ہونے والے اس اجلاس میں دونوں فریق اپنے موقف پر قائم رہے اور سمجھوتے کے لیے زیادہ لچک نہیں دکھائی۔ ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس مذاکرات کا عوامی سطح پر اعتراف نہیں کیا گیا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مستقبل قریب میں سعودی عرب کی میزبانی میں مذاکرات کا ایک اور دور بھی ممکن ہے۔ ریاض میں ہونے والی یہ بات چیت اُس وقت ہوئی جب ترکی اور قطر کی مشترکہ ثالثی پر جاری الگ سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردوان اس سے پہلے پاکستان وفد بھیجنے کا اعلان کر چکے تھے، تاہم یہ دورہ تاحال عمل میں نہیں آ سکا۔

ترکی قطر کی کوششوں کے نتیجے میں اکتوبر کے آغاز میں جھڑپوں کے بعد ایک نازک جنگ بندی ضرور ہوئی تھی، لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعے کے روز ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ یہ جنگ بندی اس لیے ناکام ہو گئی کیونکہ اس کا دارومدار دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام پر تھا۔

ذرائع کے مطابق ریاض میں ہونے والے مذاکرات میں شریک وفود زیادہ تر وہی تھے جو اس سے پہلے استنبول میں ہونے والے ادوار میں بھی شامل رہے۔ پاکستانی وفد میں دفتر خارجہ کا ایک سفارتکار بھی شامل تھا۔

مذاکرات کے دوران سعودی حکام نے تجویز دی کہ سرحد پار دہشت گردی پر بات چیت کے ساتھ ساتھ پاکستان دو طرفہ تجارت کی بحالی پر بھی غور کرے، تاہم ذرائع کے مطابق اسلام آباد نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

سعودی عرب کی درخواست پر دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریاض میں ہونے والے اس اجلاس کو عوام کی نظروں سے دور رکھا جائے گا۔

Related Posts