تھائی لینڈ اور کمبوڈیو میں سرحدی تنازعہ نیا رخ اختیار کرنے لگا جہاں دونوں ممالک کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی لاحاصل رہی۔
تفصیلات کے مابین دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف مسلسل دوسرے ہفتے کے دوران بھی جھڑپوں میں مشغول رہیں جبکہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ تھائی فوج کمبوڈیا کے خلاف نئے فوجی آپریشن میں مصروف ہوگئی۔
فوجی آپریشن شروع کرنے والی تھائی حکومت کا ماننا ہے کہ فوجی آپریشن کام قصد خودمختار علاقے کی واپسی ہے جبکہ تھائی فوج کا کہنا ہے کہ سیز فائر پر اتفاق نہیں ہوسکا اور نہ ہی اس کا کوئی منصوبہ موجود ہے جبکہ کمبوڈیا نے سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔
طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازعہ نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی 800کلومیٹر طویل سرحد کی متنازعہ حد بندی سے تعلق رکھتا ہے جبکہ دونوں جانب سے 5لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کم از کم 25فوجی اور شہری جان کی بازی ہارچکے ہیں۔
کمبوڈین فورسز بھی تھائی لینڈ کے خلاف فوجی کارروائی کر رہی ہیں۔ تھائی فوج کے مؤقف کے مطابق کمبوڈین فورسز نے بی ایم 21راکٹ لانچرز، خودکش ڈرونز اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے جو تھائی لینڈ کی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا جارہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








