ارجنٹائن کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر لیونل میسی کے بھارت کے متوقع دورے نے شائقین کے خواب تو جگائے مگر کولکتہ میں یہ خواب جلد ہی غصے اور ہنگامے میں بدل گئے۔ سالٹ لیک اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے گوٹ انڈیا ٹور 2025 کے پہلے ہی دن صورتحال اس قدر بگڑ گئی کہ تقریب مکمل افراتفری کا شکار ہو گئی۔
ہزاروں شائقین جنہوں نے میسی کو قریب سے دیکھنے کی امید میں 4 ہزار سے 12 ہزار روپے تک کے مہنگے ٹکٹ خریدے تھے اس وقت شدید مایوسی کا شکار ہو گئے جب انہیں اپنے پسندیدہ فٹبالر کی ایک جھلک بھی نصیب نہ ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق لیونل میسی صرف 10 سے 15 منٹ کے لیے اسٹیڈیم میں موجود رہے اور اس کے فوراً بعد واپس روانہ ہو گئے۔
میسی کے روانہ ہوتے ہی اسٹیڈیم کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ مشتعل شائقین نے بوتلیں اچھالیں، کرسیاں توڑ ڈالیں، حفاظتی رکاوٹیں گرائیں اور بعض افراد میدان میں داخل ہو گئے۔ منتظمین کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی جبکہ سیکیورٹی اہلکار صورتحال قابو میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔
واقعے پر مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شدید ناراضگی اور افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے عوام سے معذرت کی۔
I am deeply disturbed and shocked by the mismanagement witnessed today at Salt Lake Stadium. I was on my way to the stadium to attend the event along with thousands of sports lovers and fans who had gathered to catch a glimpse of their favourite footballer, Lionel Messi.
I…
— Mamata Banerjee (@MamataOfficial) December 13, 2025
ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اس تقریب میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں جہاں ہزاروں فٹبال شائقین میسی کی ایک جھلک دیکھنے کے منتظر تھے مگر وہاں بدانتظامی اور افراتفری نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا۔
ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں لیونل میسی ان کے مداحوں اور کھیلوں سے محبت رکھنے والے تمام افراد سے دلی معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ ریاستی حکومت اور منتظمین دونوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہے اور آئندہ ایسی صورتحال ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ کمیٹی ریٹائرڈ جج جسٹس اشیم کمار رے کی سربراہی میں کام کرے گی، جس میں ریاست کے چیف سیکریٹری اور داخلہ و پہاڑی امور کے محکموں کے ایڈیشنل چیف سیکریٹریز شامل ہوں گے۔
کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرے، بدانتظامی کے ذمہ داران کا تعین کرے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے عملی سفارشات پیش کرے۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








