وطن عزیز کے سب سے بڑے قرض دہندہ عالمی ادارے آئی ایم ایف نے اپنی ورلڈ اکنامک آﺅٹ لک رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں مہنگائی ہدف سے زیادہ، گروتھ کم رہے گی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6.2 فیصد تھی، جبکہ رواں سال بیروزگاری کی شرح بڑھ کر 7 فیصد تک پہنچ جائے گی۔
ملکی معیشت جن ابتر حالات سے دوچار ہے، اس کے پیش نظر یہ سمجھنا اور جاننا مشکل نہیں کہ آنے والے دنوں میں صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی اور معیشت پر مزید کیا گزرے گی۔ معاشی امور کی معمولی سدھ بدھ رکھنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ملکی معیشت بدترین زوال کا شکار ہے اور اس حالت بد سے نکلنا نہ صرف آسان نہیں، بلکہ مہنگے ترین قرضوں پر استوار ملکی معیشت کی بحالی اور استحکام کے دور دور تک کوئی آثار نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف کی اس رپورٹ سے معیشت کے متعلق عام اندازوں کی تصدیق ہی ہوتی ہے۔ پاکستان کی معیشت اگرچہ روزاول سے ہی کبھی مثالی نہیں رہی، تاہم آج ملک جس بد ترین معاشی صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے برے اور تباہ کن حالات اس سے قبل کبھی ریکارڈ پر نہیں آئے۔ معاشی ابتری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر طرف مایوسی کے اندھیرے پھیلے ہوئے ہیں۔ کہیں سے بھی معیشت کی بحالی اور حالات میں استحکام اور ترقی کی امید دکھائی نہیں دیتی۔
ملکی معیشت کی اس ابتری نے قوم کے ہر فرد اور ہر طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ کوئی فرد اور طبقہ ایسا نہیں، جسے معاشی حالات کے منفی اثرات نے اپنی گرفت میں نہ لے رکھا ہو۔ یہ امر مایوسی اور نا امیدی کو ہی بڑھا وا دے رہا ہے کہ دور دور تک پاکستان کے معاشی استحکام کا امکان نہیں۔ آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ کم از کم مستقبل قریب تک تو مایوسی کی ہی ”نوید“ سنا رہی ہے۔
آج جبکہ ضرورت کی ہر چیز ایک عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہے اور قوت خرید کے بڑی تیزی سے سکڑنے کے نتیجے میں غربت کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو چکا ہے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں آئی ایم ایف کی پیش گوئی کے مطابق مہنگائی مزید بڑھنے کے بعد کیا حالات ہوں گے اور اس کے اثرات ومضمرات کتنے بڑے پیمانے پر وقوع پذیر ہوں گے۔
آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ اتحادی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بد ترین ناکامی کا بھی اشتہار ہے، یہ رپورٹ ثابت کرتی ہے کہ حکومت معیشت کی بحالی اور استحکام میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور اس کی پالیسیوں اور کارکردگی سے آنے والے دنوں میں بھی معاشی استحکام اور بحالی کے امکانات نہیں ہیں۔
آئی ایم ایف کی یہ رپورٹ مظہر ہے کہ معیشت میں ترقی کے عناصر نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے بحالی اور استحکام مستقبل میں بھی محض خواب ہی رہے گا۔ جی ڈی پی گروتھ صفر اعشاریہ پانچ رہنے کا مطلب اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ معیشت بانجھ پن کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے اور اس میں زر خیزی کے تخم بونے کی شدید ضرورت ہے۔
معیشت میں گروتھ کیلئے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ناگزیر ہے، معیشت میں یہ صلاحیت جتنی زیادہ ہوگی معیشت اتنی ہی تیز رفتار کے ساتھ بحالی اور استحکام کی طرف قدم بڑھائے گی، جبکہ اس کے بر عکس پیداواری عناصر کی بجائے خسارے اور یک طرفہ اخراجات کا دروازہ ہی کھلا رہنے کی صورت میں معاشی بحالی، گروتھ اور استحکام دور دور تک خواب و خیال ہی رہیں گے۔
پاکستان کی جی ڈی پی کی یہ ابتری واضح کرتی ہے کہ حکومت کی ترجیحات اور پالیسیوں میں معیشت کی زر خیزی اور اس میں جان پیدا کرنے کے بنیادی لوازم پر توجہ شامل ہی نہیں ہے، ورنہ معیشت کا گھوڑا اس قدر بے قابو اور بے لگام ہرگز نہ ہوتا جیسے آج ہے۔
پیداواری صلاحیت کا فقدان اور برآمدات کی بجائے درآمدی بل میں ہی اضافہ معیشت کیلئے وہ روگ ہے جو اس کی جان کو بری طرح چمٹ گیا ہے۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ حکومت محض قرض کی مئے پر ہی گزارہ کر رہی ہے اور بھاری قرضوں سے اخراجات جاریہ (کرنٹ اکاؤنٹ) کا بہی کھاتا ہی چلانے پر اس کی تمام تر توجہ مرکوز ہے۔ آخر اس طرح معیشت کو کیسے قابو اور بحال کیا جا سکتا ہے؟
معیشت کی بحالی کیلئے درآمدی بل اور اخراجات جاریہ کے کھاتوں کے دروازے سے سرمائے کے یک طرفہ بہاؤ کو روکنا ناگزیر ہے اور اس کی راہ میں بریکر اور رکاوٹ معیشت کو پیداواری بنانے، معیشت میں تنوع لانے اور برآمدات کا دائرہ ہر ممکن طریقے سے بڑھانے کے ذریعے ہی پیدا کی جاسکتی ہے، اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض قرض گیری کی غیر معقول حکمت عملی سے اوپر اٹھ کر معیشت میں جان ڈالنے کیلئے درکار حقیقی اور ٹھوس اقدامات پر توجہ دے، ورنہ یہی پالیسی جاری رہی تو معاشی افراتفری سیاسی انتشار اور انارکی کو ہوا دے گی اور حالات کسی کے قابو میں نہیں آئیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں