اجتماعی عصمت دری کا سدباب

تازہ ترین

تازہ ترین

کسی بھی معاشرے میں خواتین کا استحصال کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ دنیا کے کم و بیش ہر معاشرے میں کمزور کو ہی ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور تمام تر تکالیف اور مصائب اسی کے حصے میں آتے ہیں۔

انسانی حقوق کمیٹی کے حالیہ انکشاف سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب میں گزشتہ 4سال میں 268خواتین اجتماعی عصمت دری کا شکار ہوئیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس جرم کے انسداد کیلئے فوری ایکشن وقت کی ضرورت ہے۔

ضروری ہے کہ مسئلے کی سنگینی کو سمجھا جائے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 4سال کے عرصے میں 3 ہزار 914 خواتین عصمت دری کا شکار ہوئیں۔ 1 ہزار 26 کو قتل کردیا گیا جبکہ یہ پریشان کن اعدادوشمار اجتماعی مداخلت اور کاوشوں کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

گینگ ریپ کا تعلق سماج کے روئیے، ثقافتی اصولوں، معاشی امتیاز اور طاقت کے عدم توازن سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اکثر ہمارے ہاں کچھ ایسا ماحول جنم لینے لگتا ہے جس میں اس قسم کے جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

بڑے پیمانے پر خواتین سے بدسلوکی، مردوں کے غلبے اور ناکافی قانون کے نفاذ کے باعث بھی گینگ ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے جامع حکمتِ عملی تیار کی جائے اور وہ بنیادی وجوہات دور کی جائیں جو اس میں اضافے کا باعث ہیں۔

خواتین کو بااختیار بنانا اور تعلیم دینا عصمت دری کے خلاف اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔ صنفی مساوات کو فروغ دینا، دقیانوسی تصورات کو ختم کرنا اور ایسی ثقافت کو فروغ دینا جو خواتین کے حقوق کا احترام کرے بے حد اہمیت کے حامل اقدامات ہیں۔

شادی کیلئے خاتون راضی نہ ہو تو اس کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے۔ عوام کو اس معاملے پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے اس کے تدارک کی راہ اختیار کرنی چاہئے تاکہ مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوسکے۔

بعض عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ عصمت دری کے خلاف بات کی جائے، یا حق میں اس سے ہمیشہ یہ جرم بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ یہ جرم بڑھ رہا ہے اور ہمارے گھروں تک آ پہنچا ہے، جس کا ثبوت انسانی حقوق کمیشن کی یہ رپورٹ ہے، اس لیے مسئلے پر بات نہ کرنا انتہائی حوصلہ شکن ہے۔

یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ خطرہ سامنے دیکھتے ہوئے اس کا سامنا نہ کیا جائے جو بزدلی سے کم نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عصمت دری کے خلاف سخت قوانین کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور اجتماعی عصمت دری کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کیلئے قانون سازی کی جائے اور پھانسیاں دی بھی جائیں تاکہ آئندہ یہ جرم پنپ نہ سکے۔ 

Related Posts