مقدس مقام کی سنگین حقیقت! چرچ میں 1300 بچوں کا استحصال؛ متاثرین کو 300 ملین ڈالر ہرجانہ ملے گا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

کیتھولک چرچ کے ادارے آرک ڈائیوسیز آف نیویارک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنسی استحصال کے الزامات لگانے والے تقریباً 1300 متاثرین کے ساتھ مصالحتی عمل میں شامل ہونے پر رضامند ہے اور اس سلسلے میں متاثرین کو معاوضہ ادا کرنے کے لیے 300 ملین ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

الزامات کے مطابق یہ واقعات 1952 سے 2020 کے دوران پیش آئے جن میں پادریوں اور چرچ کے مختلف ملازمین پر بچوں سے جنسی زیادتی کے دعوے کیے گئے تھے۔ متاثرین میں سے تقریباً 300 افراد کے وکیل جَیف اینڈرسن کا کہنا ہے کہ اگر یہ تصفیہ طے پا گیا تو یہ امریکی چرچ کی تاریخ کی بڑی ادائیگیوں میں سے ایک ہوگی۔

چرچ نے بتایا ہے کہ یہ رقم جمع کرنے کے لیے اخراجات کم کیے جا رہے ہیں، عملے میں کمی کی جا رہی ہے اور کچھ جائیدادیں فروخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ مصالحت کا عمل چلانے کے لیے سابق جج ڈینیئل جے بکلے کو ثالث مقرر کیا گیا ہے۔

چرچ کے سربراہ ٹموتھی ڈولن نے ماضی میں ہونے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ چرچ اب اس معاملے کو شفاف طریقے سے نمٹانے کے لیے پرعزم ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو 300 ملین ڈالر کی یہ رقم کیتھولک چرچ کی جانب سے جنسی استحصال کے کیسز میں ادا کی جانے والی بڑی رقوم میں شامل ہو سکتی ہے اور یہ رقم 2024 میں لاس اینجلس چرچ کے 880 ملین ڈالر کے تصفیے کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

Related Posts