آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں 8 نومبر کو یوم فتح کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، ترک صدر اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر آذربائیجان کے قومی ترانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی قومی ترانے کی دھن بھی بجائی گئی۔
آذربائیجان میں کاراباخ کی دوسری جنگ میں شاندار فتح کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ یہاں قابلِ ذکر امر یہ رہا کہ آذربائیجان کے یومِ فتح کی پریڈ میں پاک فوج کے خصوصی دستے نے شرکت کی اور قومی پرچم تھامے ہوئے پاکستانی فوجی دستے نے مہمانوں کو سلامی پیش کی، اس موقع پر پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کی گھن گرج نے دیکھنے والوں کا لہو گرمایا۔ پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے بھی ترکیہ اور آذربائیجان کے ساتھ مل کر فلائی پاسٹ میں حصہ لیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان، ترکیہ اور پاکستان کو تین بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاراباخ کی آزادی ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، 5 سال پہلے آذربائیجان کی افواج نے اپنی سرزمین آزاد کروائی، جنگ کے دوران پاکستان چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا رہا۔آئندہ بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا رہے گا۔
پاکستان کی فارن پالیسی کی اڑان کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کی ٹریجیکٹری اور علاقائی اہمیت میں معرکہ حق کے بعد سے جو اضافہ ہوا ہے اس میں آذربائیجان سے تعلقات الگ اہمیت کے حامل ہیں۔ آذربائیجان نے سال 1988 سے 1994 اور پھر 2020 تک جنگ کی اور پھر 2023 کی لڑائی میں ترکیہ اور پاکستان نے آذربائیجان کی مدد کی جبکہ آذربائیجان کی اپنی ہمت اور قوت نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔دونوں ممالک نے مختلف شعبہ جات میں معاہدے بھی کر رکھے ہیں جن میں ثقافتی تعاون، فروغِ تجارت، تعلیمی تبادلے اور توانائی کے شعبے شامل ہیں۔ اس معاہدوں کی فہرست میں توانائی کا شعبہ خاص طور پر نمایاں ہے، جہاں پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تیل اور گیس کی ترسیل اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع کھل رہے ہیں۔ آذربائیجان کے پاس حال ہی میں 1 جنوری 2025 تک ثابت شدہ قدرتی گیس کے ذخائر تقریباً 60 ٹریلین کیوبک فٹ اور تیل کے ذخائر 7 ارب بیرل کے ہیں، جو اسے یورپ اور ایشیا کے لیے اہم توانائی فراہم کنندہ بناتے ہیں اور یہ ملک سالانہ 38.1ارب مکعب میٹر سے زیادہ قدرتی گیس پیدا کرتا ہے۔
پاکستان، جو توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے، ان تعلقات سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرکاری سطح پر ایک معاہدے کا مسودہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے، جس سے پاکستان کو سستی گیس کی درآمدات اور پائپ لائن پروجیکٹس میں شمولیت کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ، کیسپیئن سمندر سے یورپ تک پھیلنے والے توانائی کوریڈورز، مثلا ً جنوبی گیس کوریڈور، پاکستان کو وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے دروازے کھولنے میں مدد دیں گے، جہاں زیر زمین اور سمندری کیبلز کے ذریعے ممکنہ 4 سے 6 گیگاواٹ تک بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکتی ہے۔ یومِ فتح کی پریڈ میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستے کی شرکت اور طیاروں کی گھن گرج نے نہ صرف دونوں ممالک کے بھائی چارے کو اجاگر کیا بلکہ مستقبل کے مشترکہ فوجی مشقوں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کی بنیاد بھی رکھ دی۔
پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کا سہ جہتی اتحاد یوریشیا کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو نئی سمت دے رہا ہے۔ معاشی فوائد کے اعتبار سے ترکیہ اور آذربائیجان سے تعلقات پاکستان کی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اور آذربائیجان نے تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف طے کیا ہے، جبکہ ترکیہ کے کسٹمز یونین میں شمولیت اور جارجیا، رومانیہ جیسے پارٹنرز کے ذریعے عالمی تجارت کے راستے کھلیں گے، جس سے پاکستانی تاجروں کو یورپ تک براہ راست رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ، سیاحت، آئی ٹی اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں تعاون سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ماضی میں ان تعلقات پر کم توجہ دی گئی تھی، لیکن آنے والے 5 سے 8 سالوں میں گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی طرف عالمی توازن کی تبدیلی اس سہ جہتی اتحاد کو مزید اہم ٖثابت کرے گی۔ دفتر خارجہ کے مطابق آذربائیجان کا جھکاؤ پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے، جو افغان تنازعات اور سکیورٹی چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پاکستانی قیادت کا دورہ نہ صرف رشتوں کو مستحکم کرے گا بلکہ پاکستان کی علاقائی اہمیت کو نئی جہت دے گا، جہاں امن، تجارت اور دفاعی ہم آہنگی کی بنیاد پر اگر خارجہ پالیسی کا رخ درست رہا تو مستقبل میں اس سے استفادہ حاصل ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں