فیصلے کی گھڑی

تازہ ترین

تازہ ترین

بالآخر پونے چار سال بعد اپوزیشن نے حکومتی کشتی میں سوراخ کر ہی ڈالا، حکومتی کشتی اب ڈوبتی ہے یا کنارے لگتی ہے، اس کا نتیجہ ابھی آنا باقی ہے، لیکن اس حقیقت سے کوئی بھی انکارنہیں کرسکتا کہ موجودہ حکومت کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں، حکومت پر منڈلاتے خطرات کے پیچھے دو وجوہات ہیں۔

پہلی وجہ لوٹا کریسی یعنی وہ سیاستدان جو ہر بار بکنے کیلئے چھانگا مانگا کی منڈی کا رخ کرتے ہیں، وہ لوگ ذاتی مفاد پرستی کی خاہر نہ صرف اپنے دام لگواتے ہیں بلکہ پارٹیاں بدل بدل کر اقتدار میں شامل ہونا ان کا شیوہ بن چکا ہے، عمران خان کی پیٹھ میں آج جس درد کی کراہت ہے وہ زخم خنجر بھی اسی جتھے کادیا ہوا ہے، جن لوگوں کی تحریک انصاف میں شمولیت محض لالچ کی خاطر تھی۔

اس طرح کے لوگ کوئی لگ بھگ سو ڈیڑھ سو کے قریب ہوں گے، جو ہر نئی بننے والی حکومت کے سہولت کار ہوتے ہیں، ملکی مفاد کے لئے کا نہ تو ان کا کوئی نظریہ ہوتا ہے، نہ کوئی فکر و دانش ہوتی ہے، نہ ان کا کوئی لیڈر ہوتا ہے نہ ان کی کوئی جماعت ہوتی ہے، بس جس طرف ہواؤں کا رُخ دیکھا اسی طرف چل پڑے، اس طرح کے کھلاڑی ہر جگہ ہر میچ میں ہر ٹیم کے ساتھ ہمہ وقت کھیلنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔

وہ سیاسی گھوڑے جن لوگوں نے تحریک انصاف کی ٹکٹ پر جیت کے چار سال تک حکمرانی کے خوب مزے لوٹے جب دیکھا کہ حکومت ڈگمگارہی ہے اور مدت بھی پورے ہونے کے قریب ہے، تو اپنی آئندہ کی سیاست کے لئے حکومتی دیوار میں دراڑ ڈال کر غول کے غول اِدھر اُدھر اڑنے لگے، مگر سننے میں آرہا ہے کہ تحریک انصاف کے بیسیوں اسمبلی ممبران آئندہ جنرل الیکشن میں دوسری جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈر ہوں گے اور یہی لوگ ہیں جو تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروانے میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔

حالانکہ تحریک انصاف کے منحرف اراکین کا یہ حق تھا کہ وہ حکومت کی بقیہ ایک سالہ مدت پوری کرواتے، مگر ان لوگوں نے تحمل کا مظاہرہ نہیں کیا، عمران خان کی حکومت گرانے کی جو دوسری بڑی اور اہم وجہ سمجھی جارہی ہے وہ عمران خان کا مغرب مخالف بیانیہ ہے، جس کی للکار سے امریکہ سمیت یورپ کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، کیونکہ پاکستان امریکا کا شروع سے بہترین حلیف سمجھا جاتا رہا ہے۔

پاکستان سے اتحاد کے بغیر امریکہ ایشیاء میں اپنی پالیسیوں کا تسلسل قائم نہیں رکھ سکتا، لہٰذا ان دونوں ممالک کے باہمی ربط کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی، یہ الگ بات ہے کہ تعلقات برابری کی سطح پر نہ تھے، لیکن مفادات کی خاطر ضرور تھے، پھر اس دو طرفہ دوستی کے پس پردہ زیادہ تر مفاد امریکا کے تھے، لہٰذا امریکا کو دوست نما دشمن کہیں تو بے جا نہ ہوگا، 74سالہ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پر جب بھی کوئی مشکل وقت آیا، امریکا نے ہمیشہ بے وفائی کی۔

افغان وار میں جتنا خسارہ پاکستان نے اُٹھایا شاید ہی امریکہ نے اُٹھایا ہو، کشمیر کاز یا سقوط ڈھاکہ کا المناک واقعہ ہو، امریکہ ہمیشہ خاموش تماشائی ہی رہا، حتیٰ کہ پاکستان کو اخلاقی و سفارتی محاذ پر بھی تنہا رکھا، بہرحال کچھ بیرونی قوتوں نے پاکستان میں جمہوریت کے نام پر جو جال پھینکا ہوا ہے عمران خان صاحب قوم کو اس جال سے آزاد کروانا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں آج تمام جماعتوں نے فرمائشی اور ذاتی مفاد پرستی پر مبنی جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے، یہی وجہ ہے کہ حقیقی جمہوریت سےہم کوسوں دور ہیں، جس جمہوریت کو پاکستان میں فروغ دیا جاتا ہے اس کی چھتری تلے دراصل جمہوریت کا آلہ کار بن کر رہنا پڑتا ہے اور مغرب کے ہر ناجائز ارشادات کی تعمیل کے بغیر آپ سیاسی میدان میں آگے نہیں بڑھ سکتے، خواہ آپ کتنے ہی بڑے جمہوری لیڈر کیوں نہ ہوں۔

لہٰذا ان کے حکم کی تکمیل کے لئے مغرب کو نا اہل اور مفاد پرست ٹولے کی ضرورت ہوتی ہے جو اقتدار میں آنے کے بعد ان کے اشاروں پر کام کرتے رہیں۔ آخر میں بس یہی کہنا چاہوں گا کہ قوم کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر، قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنا قیمتی ووٹ دیں، تاکہ کل اپنے ضمیر کو بھی جواب دے سکیں۔

Related Posts