مسلمانوں کیخلاف زہریلے ماحول پر بھارتی سپریم کورٹ کو بھی تشویش

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی سپریم کورٹ نے 11 اگست کو ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مودی حکومت سے کہا ہے کہ وہ نفرت انگیز تقریر (ہیٹ اسپیچ) کے معاملوں پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔ ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہیٹ اسپیچ کو کوئی بھی قبول نہیں کر سکتا، اس طرح کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے مختلف طبقات کے درمیان خیر سگالی اور بھائی چارہ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ہریانہ میں حال میں ہوئے مسلم کش فسادات کے مدنظر درج معاملوں کی جانچ کے لیے ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل کے ذریعہ کمیٹی تشکیل دیے جانے پر بھی غور کیا۔

یہ بھی پڑھیں:

کراچی میں جدید ترین ڈائنو سار پارک عوام کے لئے کھول دیا گیا

بنچ نے کہا کہ ہم ڈی جی پی سے ان کے ذریعہ نامزد تین یا چار افسران کی ایک کمیٹی تشکیل کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں، جو ایس ایچ او سے سبھی جانکاریاں حاصل کرے گی اور ان کی جانچ کرے گی۔ اگر جانکاری درست ہے تو متعلقہ پولیس افسر کو مناسب ہدایت جاری کرے گی۔ بنچ نے کہا کہ ایس ایچ او اور پولیس سطح پر پولیس کو حساس بنانے کی ضرورت ہے۔
دراصل بھارتی سپریم کورٹ ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں ہوئی ریلیوں میں ایک خاص طبقہ کے اراکین کے قتل اور ان کے سماجی و معاشی بائیکاٹ کی اپیل سے متعلق مبینہ شدید نفرت بھری تقریر کو لے کر داخل ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ یہ عرضی صحافی شاہین عبداللہ نے داخل کی تھی۔

عرضی میں سپریم کورٹ سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ مرکز کو نفرت بھری تقریر پر روک لگانے کی ہدایت دے۔ کئی ایسی تقریریں سامنے آئی ہیں جن میں ہریانہ سمیت ملک بھر میں منعقد ریلیوں میں ایک طبقہ کے اراکین کے قتل اور ان کے معاشی و سماجی بائیکاٹ کی اپیل کی گئی ہے۔
شاہین عبداللہ نے اپنی عرضی میں سپریم کورٹ کے دو اگست کے اس حکم کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ریاستی حکومتیں اور پولیس یہ یقینی کرے گی کہ کسی بھی طبقہ کے خلاف کوئی نفرت بھری تقریر نہ دی جائے اور کوئی تشدد نہ ہو یا ملکیت کو نقصان نہ ہو۔

Related Posts