اپنے حالیہ بیان میں نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ معیشت عبوری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے جبکہ نگراں حکومت کو عام انتخابات کے انعقاد کیلئے منظرِ عام پر لایا گیا۔
پاکستان میں نگراں حکومت سے آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی توقع کی جارہی ہے تاہم نگراں حکومت کے بیانات سے محسوس ایسا ہوتا ہے کہ موجودہ سیٹ اپ کی بساط معیشت کی بحالی کیلئے ٹیکنوکریٹ حکومت کے طور پر بچھائی گئی ہے۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ حکومت معاشی پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنائے گی اور ان پالیسیوں میں مزید بہتری لائی جائے گی جبکہ حکومت زراعت اور دیگر شعبہ جات میں خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے۔
وزیر اعظم کی جانب سے طویل المدتی اہداف بھی سامنے آئے ہیں جن میں عوامی منصوبوں کی ترقی، پاور سیکٹر میں اصلاحات، صحت اورتعلیم کے شعبہ جات میں بہتری اور ٹیکس ریونیو میں اضافہ شامل ہیں۔
وفاقی حکومت فریم ورک فراہم کیے بغیر انتہائی تیر بہدف مقاصد متعین کر رہی ہے جس میں ٹیکس سے جی ڈی پی تناسب کو 9 فیصد سے 13فیصد تک اور ٹیکس وصولی کو 9اعشاریہ 4ٹریلین روپے تک لے جانا شامل ہے۔ اسی طرح حکومت ملک کی 28 ارب کی برآمدات کو 80 ارب تک اور پھر آئی ٹی برآمدات کو 2.5ارب سے اٹھا کر 10ارب تک لانے کی خواہاں ہے۔
آئندہ دنوں میں ہوسکتا ہے کہ نگران حکومت کی جانب سے مزید مشکل اہداف بھی سامنے آئیں جبکہ پاکستان کو معاشی اصلاحات کی ضرورت آج ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہی کافی نہیں بکہ نگراں حکومت کو معاشی بحران کے دوبارہ سر اٹھانے کی صورت میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
عبوری حکومت کے پاس معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے اختیارات ہونا ضروری ہے۔ وفاقی کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ نگراں حکومت قوم کی خدمت کا مستقل مینڈیٹ نہیں رکھتی لیکن ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔
دلچسپ طور پر حکومت طویل المدتی ویژن یہ جانتے ہوئے بھی سامنے لاچکی ہے کہ نگراں حکومت کے پاس محدود وقت کیلئے اقتدار ہوتا ہے۔ عام انتخابات نہ ہونے کے باعث بھی شاید وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ معاشی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے تیاری کر رہے ہیں۔
معاشی بحالی کے عمل میں نگران حکومت کو اپنے بنیادی مقصد یعنی 90 روز کے اندر اندر آزادانہ، منصفانہ اور صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنانا نہیں بھولنا چاہئے، اگرچہ گزشتہ حکومت کی جانب سے مردم شماری کی منظوری اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی حد بندی کے طویل عمل کے باعث انتخابات تاخیر سے ہوں گے۔
پھر بھی حکومت کیلئے ضروری ہے کہ اپنے مینڈیٹ کو یاد رکھتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی سے بچے تاکہ عام انتخابات کے انعقاد سے جمہوری حکومت سامنے لائی جاسکے جو عوامی امنگوں کا بہتر طور پر تحفظ کرسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں