مہنگائی کا جن

تازہ ترین

تازہ ترین

ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا شاید اب حکومت کے بس سے باہر ہوچکا ہے کیونکہ حکمران قرض کی ادائیگی کیلئے بھی قرض لیتے ہیں اور سود کی ادائیگی کیلئے مزید سود پر مبنی قرض اٹھا لیا جاتا ہے۔ 

مہنگائی کے ضمن میں خاص طور پر گزشتہ 2 دہائیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں جو نئے ہزارئیے (ملینیم) کی آمد کی خوشیاں مناتی ہوئی دنیا بھر کی اقوام کیلئے دردِ سر بن گئیں، تاہم اس میں عالمی طاقتوں کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔

مثال کے طور پر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا جس کے بعد عالمی برادری جو پہلے ہی مسلم، غیر مسلم، یہودی، عیسائی اور ملحدین کی تقسیم میں الجھی تھی، دہشت گردوں کو تلاش کرنے میں لگ گئی، امریکا نے افغانستان پر حملہ کردیا۔

پاکستان نے اعلان کیا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیں گے اور اپنے ہی ہمسایہ ملک افغانستان میں امریکا سے برسرِ پیکار طالبان کی مخالفت مول لے بیٹھا۔ اگر قارئین کو یاد ہو تو اس وقت سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے چیف ایگزیکٹو آف پاکستان کا لقب اختیار کرتے ہوئے ملک کی عنانِ اقتدار سنبھالی ہوئی تھی۔

اس اقدام کا نتیجہ ملک میں دہشت گردی کی صورت میں برآمد ہوا اور ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد تنظیموں نے سر اٹھانا شروع کردیا۔ نتیجتاً پاک فوج کو میدان میں آنا پڑا کیونکہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کو قابو میں کرنا پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بس سے باہر تھا۔ 

افغانستان کے طالبان نے امریکا کے خلاف 20 سال تک جنگ لڑی اور امریکا ناکام ہو کر اپنی فوج واپس بلانے پر مجبور ہوا لیکن پھر روس نے یوکرین کے خلاف جنگ چھیڑ دی جس پر اسے امریکا اور اس کے اتحادیوں نے ہی اس ملک کو نیٹو کا رکن بنانے کی ہامی بھر کر مجبور کیا تھا۔

آج کل مہنگائی کا ذمہ دار روس یوکرین تنازعے سمیت دیگر عالمی واقعات کو قرار دیا جاتا ہے۔ آپ سوال کریں کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کیوں بڑھیں، یہ پوچھیں کہ یہاں گندم سمیت دیگر اشیائے ضروریہ مہنگی کیوں ہورہی ہیں؟ تو جواب ملتا ہے کہ عالمی منڈی میں مہنگائی ہی ہمارے ہاں مہنگائی کی بڑی وجہ ہے۔

بلاشبہ مہنگائی کے جن کو بوتل سے نکالنے میں اہم کردار پے درپے عالمی سطح پر پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے مگر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ من حیث القوم پاکستانی قوم نے ترقی کی بجائے تنزلی کی راہ اختیار کر لی۔ ہم جو کبھی گندم کے برآمد کنندہ تھے، آج کل دوسروں سے گندم خرید کر کھانے پر مجبور ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستانی قوم اپنی ضروریات ہی پوری کرنے کیلئے خود میدانِ عمل میں اترے اور ذات پات، قومیت، صوبائیت اور مذہبی تفرقہ بازی جیسے جھمیلوں سے نکل کر متحد ہوجائے۔ صرف اسی ایک اقدام سے مہنگائی کے جن کو قابو کرنے سمیت دیگر اہم مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

Related Posts