قومی کرنسی کا مذاق مہنگا پڑ گیا! صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف عوامی غصہ؛ گرفتاری کا مطالبہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

معروف صحافی مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 500 روپے کے پاکستانی کرنسی نوٹ کی ایک ایڈٹ شدہ تصویر شیئر کی جس میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر و موجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف دونوں کی تصاویر شامل تھیں۔ تصویر پر طنزیہ انداز میں لکھا گیاکہ فرام 47 ٹو فارم 47 تک کا سفر، جس کا مقصد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے انتخابی عمل یا سیاسی کیریئر پر تنقید کرنا بتایا گیا۔

مطیع اللہ جان نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھاکہ نیا تجویز کردہ 500 روپے کا نوٹ ہے۔ اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔

مسلم لیگ نون یو کے کے جنرل سیکرٹری راشد ہاشمی نے پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحافت کا جنازہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ جان نے سوچا ہوگا کہ پوری زندگی پرانی کار چلانے اور گندی دیواروں والے گھر سے گزارنے کے بجائے کچھ نوٹ کما لیے جائیں لیکن اس کے لیے کسی کی عزت کا مذاق اڑانا ناقابل قبول ہے۔

ایک صارف نے براہِ راست مطیع اللہ جان سے سوال کیا کہ کیا یہ صحافت ہے یا داستان گوئی؟ جس پر مطیع اللہ جان نے جواب دیا کہ یہ ہائبرڈ صحافت ہے، ہائبرڈ نظام کے تحت پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر زندہ رہنے کے لیے۔ اس پر صارف نے کہا کہ تو پھر آپ اور عمران ریاض، صادق جان، ارشد شریف وغیرہ میں کیا فرق ہے؟

ایک اور صارف نے کہاکہ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ایک حلال کمانے والا شخص چند ڈالروں کے لیے جانوروں جیسی حرکتیں کرنے لگے۔ایک اور صارف نے نصرت جاوید کے تبصرے کا حوالہ دیا کہ مطیع اللہ جان کا ذہنی توازن خراب ہو چکا ہے اور اس نے پروگرام صحافی چھوڑ کر دوسرا پروگرام شروع کیا۔ صارف نے سختی سے کہاکہ سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرنسی کا مذاق اڑا رہے ہو۔

واضح رہے کہ یہ 500 روپے کا نوٹ کسی سرکاری تجویز یا جاری کردہ کرنسی کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک طنزیہ میم ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ پوسٹ کے بعد کچھ صارفین نے اسے مزاحیہ اور دلچسپ قرار دیا کچھ نے مزید ایڈٹ شدہ ورژنز شیئر کیے، اور کچھ نے اسے جھوٹی یا پروپیگنڈہ پر مبنی قرار دیا۔

یہ واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابات فارم 47 اور مسلم لیگ نون کے لیڈر شہباز شریف کے حوالے سے طنزیہ تبصرے کے طور پر سامنے آیا اور سوشل میڈیا پر اسے لے کر صارفین میں شدید بحث و تنازع پیدا ہوا۔

Related Posts