معروف صحافی مطیع اللہ جان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 500 روپے کے پاکستانی کرنسی نوٹ کی ایک ایڈٹ شدہ تصویر شیئر کی جس میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر و موجودہ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف دونوں کی تصاویر شامل تھیں۔ تصویر پر طنزیہ انداز میں لکھا گیاکہ فرام 47 ٹو فارم 47 تک کا سفر، جس کا مقصد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے انتخابی عمل یا سیاسی کیریئر پر تنقید کرنا بتایا گیا۔
مطیع اللہ جان نے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھاکہ نیا تجویز کردہ 500 روپے کا نوٹ ہے۔ اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
New proposed Rs 500 currency note ? pic.twitter.com/3OHCmNXZoK
— Matiullah Jan (@Matiullahjan919) January 14, 2026
مسلم لیگ نون یو کے کے جنرل سیکرٹری راشد ہاشمی نے پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحافت کا جنازہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مطیع اللہ جان نے سوچا ہوگا کہ پوری زندگی پرانی کار چلانے اور گندی دیواروں والے گھر سے گزارنے کے بجائے کچھ نوٹ کما لیے جائیں لیکن اس کے لیے کسی کی عزت کا مذاق اڑانا ناقابل قبول ہے۔
ایک صارف نے براہِ راست مطیع اللہ جان سے سوال کیا کہ کیا یہ صحافت ہے یا داستان گوئی؟ جس پر مطیع اللہ جان نے جواب دیا کہ یہ ہائبرڈ صحافت ہے، ہائبرڈ نظام کے تحت پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر زندہ رہنے کے لیے۔ اس پر صارف نے کہا کہ تو پھر آپ اور عمران ریاض، صادق جان، ارشد شریف وغیرہ میں کیا فرق ہے؟
Simple question. Is it journalism or narrative ?
— 𝓼𝓱𝓮𝓻𝓪𝓷𝓲 (@ThankyouSherani) January 15, 2026
ایک اور صارف نے کہاکہ یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ایک حلال کمانے والا شخص چند ڈالروں کے لیے جانوروں جیسی حرکتیں کرنے لگے۔ایک اور صارف نے نصرت جاوید کے تبصرے کا حوالہ دیا کہ مطیع اللہ جان کا ذہنی توازن خراب ہو چکا ہے اور اس نے پروگرام صحافی چھوڑ کر دوسرا پروگرام شروع کیا۔ صارف نے سختی سے کہاکہ سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی کرنسی کا مذاق اڑا رہے ہو۔
مطیع اللہ جان کو نصرت جاوید صاحب نے بہت پہلے پہچان لیا تھا کہ اسکا ذہنی توازن خراب ہو گیا ہے لہٰذا اسکا پروگرام “صحافی” چھوڑ کر دوسرا ٹی وی پروگرام پکڑ لیا – https://t.co/fecxSc1pdC
— ABRAR ALI QURESHI (@abraraliqureshi) January 15, 2026
واضح رہے کہ یہ 500 روپے کا نوٹ کسی سرکاری تجویز یا جاری کردہ کرنسی کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک طنزیہ میم ہے جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ پوسٹ کے بعد کچھ صارفین نے اسے مزاحیہ اور دلچسپ قرار دیا کچھ نے مزید ایڈٹ شدہ ورژنز شیئر کیے، اور کچھ نے اسے جھوٹی یا پروپیگنڈہ پر مبنی قرار دیا۔
یہ واقعہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، انتخابات فارم 47 اور مسلم لیگ نون کے لیڈر شہباز شریف کے حوالے سے طنزیہ تبصرے کے طور پر سامنے آیا اور سوشل میڈیا پر اسے لے کر صارفین میں شدید بحث و تنازع پیدا ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








