ہفتے کی شب ضلع بنوں کے علاقے فتح خیل میں قائم پولیس چوکی پر ہونے والے خودکش کار بم حملے میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 15 ہو گئی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق امدادی ٹیمیں اتوار تک ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف رہیں۔
ذرائع کے مطابق 9 مئی کی رات پولیس پوسٹ پر 21 اہلکار موجود تھے جب ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی چوکی سے ٹکرا دی۔ زور دار دھماکے کے فوراً بعد مختلف اطراف سے شدت پسندوں نے فائرنگ شروع کر دی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار ابتدائی دھماکے اور فائرنگ میں جان سے گئے جبکہ کئی اہلکار عمارت گرنے کے باعث ملبے تلے دب کر ہلاک ہوئے۔علاقے میں یکے بعد دیگرے کئی دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جس سے قریبی آبادی میں شدید خوف پھیل گیا۔
مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق فتح خیل کا منظر تباہی کی تصویر پیش کر رہا تھا۔ پولیس چوکی مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکی تھی جبکہ جائے وقوعہ پر جلی ہوئی گاڑیاں، ٹوٹی اینٹیں اور تباہ شدہ سامان بکھرا ہوا تھا۔ دھماکے سے قریبی رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ امدادی کارروائیاں اتوار بھر جاری رہیں اور ٹیمیں ملبے سے لاشیں اور زندہ بچ جانے والے افراد نکالنے کی کوشش کرتی رہیں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق اتحاد المجاہدین پاکستان نامی تنظیم جسے مبینہ طور پر پاکستانی طالبان سے الگ ہونے والا دھڑا قرار دیا جا رہا ہے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
یہ حملہ خیبر پختونخوا میں، خصوصاً افغان سرحد کے قریب علاقوں میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ایک اور مثال سمجھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب ایک روز قبل باجوڑ میں بھی پولیس چوکی پر اسی نوعیت کے خودکش حملے میں تین پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی تعلقات بدستور کشیدہ ہیں۔ گزشتہ سال اکتوبر سے سرحدی گزرگاہیں بند ہیں جبکہ افغان شہریوں کو ویزے جاری کرنے کا عمل بھی معطل ہے۔ اسلام آباد متعدد بار یہ الزام عائد کر چکا ہے کہ کابل میں موجود شدت پسند افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں تاہم طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








