کراچی:پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے بد ترین مندی کی زد میں رہی،کے ایس ای100انڈیکس 500پوائنٹس گھٹ گیا جس کی وجہ سے انڈیکس 47ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد سے گر گیا اور46600پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بند ہوا۔
مندی کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے119ارب روپے سے زائد ڈوب گئے اور سرمائے کا مجموعی حجم82کھرب روپے سے کم ہو کر81کھرب روپے پر آگیا جبکہ کاروباری 60.61فیصد حصص کی قیمتیں بھی گھٹ گئیں۔
اسٹا ک ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ رواں ماہ کے آخر میں باضابط مذاکرات شروع ہونے اور حصص مارکیٹ کی غیر واضح سمت،آئی ایم ایف پروگرام میں دوبارہ شمولیت کے بعد پروگرام کی سخت شرائط پر عمل درآمد کی صورت میں معیشت کے تمام شعبوں کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنے،مہنگائی بڑھنے،خام تیل کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کی خبروں پر سرمایہ کاری تذبذب کا شکا ر رہے۔
انہوں نے منافع خوری کی خاطر نہ صرف فروخت کو ترجیح دی بلکہ نئی سرمایہ کاری سے بھی ہاتھ کھینچ لیا جس کی وجہ سے3دن کی مندی سے انڈیکس838.12پوائنٹس لوز کر گیا۔
تاہم طویل دورانیئے کے بعد روپیہ کی تنزلی کا سلسلہ رکنے سے آنیوالے دنوں میں بڑھتے درآمد بل کے حجم میں کمی کے امکانات،وفاقی حکومت کا قومی ائیر لائن کو44ارب روپے کا بیل آٹ پیکیج دینے اور کے الیکٹر ک کو نیشنل گرڈ سے 1100میگا واٹ بجلی کی فراہمی جیسے اقدامات سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 2دن تیزی کا رجحان رہا۔
اس دوران کے ایس ای1010انڈیکس 275.91پوائنٹس بڑھ گیا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے ایس ای100انڈیکس میں 562.21پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے انڈیکس47198.29پوائنٹس سے کم ہو کر46636.08پوائنٹس ہو گیا۔
اسی طرح304.29پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای30انڈیکس 18784.61پوائنٹس سے کم ہو کر18480.32پوائنٹس پر آگیا جبکہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس32388.43پوائنٹس سے گھٹ کر32010.20پوائنٹس پر بند ہوا۔
کاروباری اتار چڑھا کے باعث مارکیٹ کے سرمائے میں 1کھرب19ارب79کروڑ6لاکھ99ہزار303روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم82کھرب55ارب17کروڑ14لاکھ23ہزار497روپے سے کم ہو کر81کھرب35ارب38کروڑ7لاکھ24ہزار194روپے ہو گیا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس47387.34پوائنٹس کی بلند سطح کو چھو گیا تھا تاہم مندی کی لہر آنے سے انڈیکس46503.69پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بھی دیکھا گیا تھا۔