تازہ ترین

تازہ ترین

ہم سے ایک بار کسی نے پوچھا تھا کہ مسلم سوسائٹی کا کوئی ایسا حصہ بھی ہے جس پر زوال نہ آیا ہو؟ جواباً عرض کیا تھا کہ مسلم دسترخوان واحد مقام ہے جس پر زوال نہیں آیا۔ رمضان کا مہینہ وہ ماہ ہے جب دسترخوان پر سجی غذا کی مقدار 5 گنا بڑھ جاتی ہے۔ کھانے والا ایک لمحے کو بھی نہیں سوچتا کہ غذا پر بھی مقدار کا اصول لاگو ہوتا ہے۔

انسانی فطرت بھی عجیب ہی ہے۔ کہنے کو اس کے نزدیک اس کی صحت ہی اس کا سب سے بیش قیمت اثاثہ ہے لیکن خیال یہ ان آلات کا زیادہ رکھتا ہے جو اس نے اپنی مختلف ضرورتوں کے لئے خرید رکھے ہیں۔ ان آلات میں چونکہ اس کی گاڑی کو امتیازی حیثیت حاصل ہے سو چلئے گاڑی کو سامنے رکھ کر ہی بات بڑھاتے ہیں۔

جب یہ گاڑی کے لئے ڈرائیور رکھتا ہے تو اسے اس بات کی خصوصی تاکید کرتا ہے کہ اس کا تیل پانی روز چیک کرنا ہوگا۔ تیل پانی چیک کرنے کا مطلب یہ کہ روز صبح باقاعدگی کے ساتھ اس بات کا مشاہدہ کرنا کہ ریڈی ایٹر میں پانی، انجن آئل، بریک آئل، اور پریشر آئل کی مقدار پوری ہے یا نہیں؟ اگر پوری ہے تو صد شکر لیکن اگر ان میں سے کسی چیز کی مقدار کم ہے تو اسے پورا کرلیا جائے۔ جانتے ہیں یہ سارا تکلف پوری پابندی کے ساتھ روز کیوں اٹھایا جاتا ہے؟ صرف اور صرف اس لئے کہ گاڑی کی ’’صحت‘‘ ٹھیک رہے۔ گویا اس ضمن میں حضرت انسان اس بات کا انتظار نہیں کرتا کہ گاڑی کھانسی، بخار، پیٹ میں مروڑ یا سر درد کا شکار ہوگی تو وہ اسے اس کے معالج یعنی مکینک کے پاس لے کر جائے گا۔ بلکہ وہ پیشگی گاڑی کی جملہ خوراک پر نظر رکھتا ہے۔ وہ اسے پانی اور ہر طرح کے تیل مطلوبہ مقدار کے عین مطابق دیتا ہے۔ نہ مطلوبہ مقدار سے زیادہ اور نہ ہی کم۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مقدار کی یہ کمی بیشی اس کی گاڑی کی صحت کے لئے خطرناک ہے۔

پانی کی کمی سے انجن گرم ہوکر کمزور ہوسکتا ہے۔ انجن آئل کی کمی سے انجن سیز ہوسکتا ہے۔ بریک آئل کی کمی سے بریک نہ لگنے کے نتیجے میں کوئی حادثہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ مذکورہ جملہ آفات سے گاڑی کو بچائے رکھنے کے لئے وہ یہ بنیادی کام ہرحال میں انجام دیتا ہے کہ روز صبح اٹھ کر خود یا ڈرائیور کی مدد سے گاڑی کی خوراک کی مقدار پر نظر رکھتا ہے۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو اور کیا ہے کہ جتنی دیکھ بھال ہم گاڑی کی کرتے ہیں اور جتنی گہری نظر ہم اس کی خوراک کی مقدار پر رکھتے ہیں۔ پیمانوں کے ذریعے باقاعدہ ناپ ناپ کر دیکھتے ہیں کہ مقدار مقررہ حد سے کم یا زیادہ تو نہیں؟ یہی سب ہم اپنی صحت کے معاملے میں بالکل نہیں کرتے۔ ہم نے کبھی اس بات پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا کہ ہمارے اپنے وجود کے لئے بھی خوراک کی کوئی مقدار متعین ہے یا نہیں؟ کیا ہم اپنی خوراک کی مقدار کا حساب بھی اتنی پابندی سے رکھتے ہیں جس پابندی کا مظاہرہ ہم اپنی گاڑی کے معاملے میں کرتے ہیں؟

ہمارے جسم کو پروٹین، کیلشیم ، وٹامنز، فولاد اور نہ جانے کن کن غذائی اجزاء کی ضروت ہوتی ہے جن کا ایک متوازن مقدار کے ساتھ ہی اسے ملنا ضروری ہے۔ کیا یہ اجزاء ہم اپنے جسم کو مطلوبہ مقدار میں مہیا کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مقدار سے زیادہ معدے میں انڈیل رہے ہوں؟ غذائی اجزاء کا حساب کتاب پھر بھی اس لحاظ سے ایک تفصیلی کام ہے کہ مختلف سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے خواص یاد رکھنا اور مطلوبہ غذائی اجزاء کے لئے اپنی خوراک میں ان کا توازن قائم کرنا بہرحال ایک غور طلب کام ہے سو اس میں کمی کوتاہی ایک حد تک قابل قبول ہوسکتی ہے۔ لیکن یہاں تو مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ ناشتے میں انڈہ پراٹھا، دن کے کھانے میں سالن کے ساتھ دو روٹیاں اور دو ہی روٹیاں رات کے کھانے میں یہ سوچے بغیر اپنے پیٹ میں اتار رہے ہیں کہ یہ اتنی ساری خوراک ہمارے جسم کی ضرورت ہے بھی یا نہیں؟

نتیجہ یہ کہ  35 سال سے زائد عمر کے اکثر افراد 15 سے 30 کلو چربی اپنے جسم پر اٹھائے ہانپ رہے ہیں۔ خود ہم ذاتی طور پر بھی ان لوگوں میں سے رہے ہیں جس نے 20 کلو چربی کا وزن سالہا سال ڈھویا ہے۔ 12 سے 15 برس قبل وزن کم کرنے والے ایک ادارے سے رابطہ کیا جس نے اپنی مہنگی ادویات اور ایک بیہودہ سا ڈائٹ پلان پکڑا دیا۔ نہ وہ ڈائٹ پلان کام کا تھا اور نہ ہی ادویات، نتیجہ یہ کہ مسئلہ حل نہ ہوا۔ سب سے مقبول ٹوٹکا جو بار بار ملتا رہا، یہ رہا کہ واک کیجئے! واک بھی کرکے دیکھ لی مگر بات بنی نہیں۔ پھر 4 سال قبل دو ممتاز ڈاکٹرز سے اس سلسلے میں مشاورت کی اور اس پر عمل شروع کیا تو انکشاف ہوا کہ وزن کم کرنے کے حوالے سب سے زیادہ گمراہ کن پروپیگنڈہ تو وہ ہے جو ہم خود سنی سنائی بات آگے بڑھا کر کر رہے ہوتے ہیں اور جس کے نتیجے میں وزن کم کرنا دنیا کے چند مشکل ترین کاموں سے ایک بن کر رہ جاتا ہے، ورنہ فی الحقیقت تو یہ آسان ترین کام ہے۔

نہ اس کے لئے ادویات لینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی خود کو بھوکا مارنے کی حاجت۔ اور تو اور، ابلی ہوئی سبزیاں اور پھیکے پکوان کھانے کی بھی ہرگز ضرورت نہیں۔ مسئلہ بس اتنا سا ہے کہ ہم نے اپنے جسم کو ناشتے میں انڈہ پراٹھا، دن اور رات میں دو دو روٹیوں کی جو عادت ڈالی ہے،  یہ غلط ہے۔ اگر غور کیجئے تو اس میں اہم کردار ماں باپ کا ہے۔ جوں ہی بچہ دس بارہ سال کی عمر کو پہنچتا ہے ماں دو دو روٹیاں ٹھونسنی شروع کردیتی ہے۔ بچے سے دو دو روٹیاں نہ کھائی جائیں تو ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں کہ بچہ ٹھیک سے کھاتا نہیں۔ اب اگر ڈاکٹر یہ کہے کہ بھئی ایک وقت میں دو دو روٹیاں تو ایک بڑی عمر کے آدمی کی بھی ضرورت نہیں تو آپ اپنے بچے کو کیوں اس پر مجبور فرما رہی ہیں؟ تو اس صورت میں تو قبلہ ڈاکٹر صاحب فیس نہیں لے سکتے۔ جب بچے کو کوئی طبی مسئلہ ہی نہیں تو فیس کس بات کی؟ چنانچہ ڈاکٹر صاحب سیرپ لکھ کر بچے کی بھوک کو غیر ضروری حد تک بیدار کر دیتے ہیں تاکہ فیس لی جا سکے۔ اور یوں ہم میں سے ہر شخص لگ بھگ اسی طریقۂ واردات کے نتیجے میں دو دو روٹیوں اور نہ جانے کتنی کتنی بوٹیوں کا عادی ہوتا چلا گیا ہے۔

اب چونکہ اس خوراک میں خاص طور پر گندم، چاول اور میٹھا ہم اپنی ضرورت سے بہت زیادہ لے رہے ہیں تو نتیجہ یہ کہ یہ اضافی خوراک چربی بن کر ہمیں بھوت کی طرح چمٹ جاتی ہے اور ہمیں لاغر ہی نہیں، مستقل امراض کا بھی شکار کردیتی ہے۔ اور امراض بھی چھوٹے موٹے نہیں بلکہ دل، گردے، جگر ، لبلبے اور پھیپڑوں کے۔ خوراک میں چار چیزوں کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ میٹھا، گندم، چاول اور وہ مرغن کھانے جو دعوتوں میں سرو ہوتے ہیں۔

ہم نے اپنے معالج کے مشورے کے مطابق ناشتے میں دو ابلے ہوئے انڈے زردی سمیت لئے اور چائے بھی نارمل میٹھی ہی لی۔ ابلے ہوئے انڈوں سے جی بھرنے لگتا تو براؤن بریڈ کے چار سلائس یا جو کا دلیہ لینا شروع کردیتے۔ دن میں کھانے کے بجائے سلاد میں کالے چنے مکس کرکے لیتے اور خوب رج کر کھاتے۔ رات کے کھانے میں سالن کے ساتھ ایک روٹی یا ایک پیالہ چاول لیتے۔ لیکن سالن ڈبل لیتے تاکہ بھوک بھی نہ رہے اور گندم یا چاول کی غیر ضروری مقدار بھی پیٹ میں نہ جائے۔

سمجھنے کی بات یہی ہے کہ سالن نہیں گندم، چاول اور میٹھا خطرناک ہے۔ میٹھے سے مراد وہ غذائی اشیا ہیں جن کا مرکزی عنصر ہی چینی ہے۔ مثلاً کولڈ ڈرنک، مٹھائیاں، کسٹرڈ اور کھیر وغیرہ۔ اس ڈائٹ پلان میں نہ تو ادویات کی مدد شامل تھی اور نہ ہی بھوکا رہنا پڑتا ۔ بس تین چیزوں کو کنٹرول کرکے ان کی جگہ غیر مضر چیزیں بڑھا دی تھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ماہ میں چار کلو وزن کم ہونا شروع ہوگیا۔ اور چار ماہ میں 20 کلو چربی جسم سے غائب ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ہم نے دن میں سلاد اور کالے چنے والا تکلف بھی ترک کردیا۔ اب بس ناشتہ اور رات کا کھانا ہی معمول ہے۔ لطف کی بات یہ کہ جاڑے میں چونکہ ہر شخص کی طبیعت کھانے پینے پر کچھ زیادہ ہی آمادہ ہوتی ہے۔ سو جاڑے میں جم کر بدپرہیزی بھی کر لیتے ہیں۔ مگر وزن پر نظر رکھتے ہیں۔

جوں ہی پانچ دس کلو بڑھ جاتا ہے۔ عیاشی ترک کرکے واپس ناشتے اور رات کے کھانے والے معمول پر آجاتے ہیں۔ سو وزن بھی واپس اپنی مقررہ حد پر آجاتا ہے۔ جاتے جاتے ایک مزے کی بات سن لیجئے۔ مذکورہ ڈائٹ پلان کی کامل پابندی ہو تو پھر ہفتے میں ایک دن رج کر بدپرہیزی بھی کی جا سکتی ہے۔ ہم ہفتے میں ایک دن یہ بدپرہیزی پوری ایمانداری کے ساتھ کرتے ہیں۔ اور اس کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا۔ مسلمان کو رمضان میں غذا کی مقدار کا پابند کرنا عجیب سی بات ہی ہے مگر سیاست سے زیادہ عجیب پھر بھی نہیں!

Related Posts