فلسفیانہ داستانوں کی حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

آپ نے منطقیوں سے ایک لگا بندھا فکس دعوی ضرور سن رکھا ہوگا جس کا خلاصہ اگر ہم ذرا ادبی رنگ میں پیش کریں تو یوں نکلتا ہے۔

جب اسلام نازل ہوا تو کچھ عرصے بعد پتہ چلا کہ اللہ سبحانہ و تعالی سے تو نعوذ باللہ ایک بڑی مسٹیک ہوگئی ہے۔اور وہ یہ کہ انسان کو دی تو عقل مگر دین معقولات کی بجائے منقولات میں نازل فرما دیا۔ اللہ تعالی سے تو چلو مسٹیک ہوگئی تو ہوگئی مگر اللہ کے رسول ﷺ اور چاروں خلفاء کو بھی اس کا خیال نہ آیا۔ چنانچہ دور خلافت راشدہ گزرتے ہی اسلام پر یہ آفت ٹوٹ پڑی کہ یونانی فلسفیوں نے ایسے ایسے “معقول” سوالات اٹھا دیئے جن کا قرآن و حدیث میں کوئی جواب نہ تھا۔ یا اگر جواب تھا بھی تو یونانی یہ کہہ کر اسے قبول کرنے سے انکار کرگئے کہ بھئی ہمارا اس پر ایمان ہی نہیں لھذا ہم اسے بطور دلیل قبول نہیں کریں گے۔ چنانچہ یونانیوں کی بولتی بند کرنے کے لئے مسلمانوں نے فلسفہ اور منطق پڑھنا شروع کیا۔ اور پھر ایک دن فلسفے اور منطق کے ذریعے انہوں نے اللہ کی مدد کرتے ہوئے اس کے دین کو بال بال بچا لیا ورنہ مسٹیک تو اللہ سے بہت بڑی ہوگئی تھی۔لاحول ولاقوۃ الا باللہ

اچھا اب مزے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے مناظروں کے کچھ قصے بھی موجود ہیں۔ اور ہر قصہ یوں شروع ہوتا ہے

“ایک بہت بڑے فلسفی سے مناظرہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”

فلسفی کون تھا ؟ نام کیا تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟ مناظرہ کس تاریخ کو ہوا ؟ کوئی تفصیل نہیں ۔ بس ایک بہت بڑا فلسفی تھا، سے بات شروع ہوتی ہے۔ اس طرح کے مناظروں کی دو مثالیں دیکھئے اور اندازہ لگایئے کہ ان میں “معقولات” کتنے پائے جاتے ہیں

٭ فلسفی نے کہا کہ اگر اللہ ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آتا ؟ اس پر حضرت فلاں نے فرمایا کہ بھئی دودھ لایا جائے۔ جب لایا گیا تو حضرت نے فلسفی سے دریافت فرمایا کہ مکھن کہاں ہوتا ہے ؟ فلسفی نے کہا، دودھ میں ہوتا ہے۔ تو حضرت نے فرمایا ددکھاؤ کہاں ہے ؟ نظر کیوں نہیں آتا ؟ اور یوں حضرت نے مناظرہ جیت لیا اور فلسفی کو شکست فاش ہوگئی۔

گویا فلسفی کو یہ راز بھی مسلمانوں سے ہی معلوم ہوا کہ مکھن ہوتا تو دودھ میں ہے مگر نظر نہیں آتا۔ اس سے قبل وہ اس بات سے ہی واقف نہ تھا کہ مکھن جب دودھ میں بطور جزو شامل ہوتا ہے تو نظر نہیں آتا۔ اور مسلمانوں نے اس پر یہ انکشاف کرنے کے لئے یونانی فلسفہ پڑھنے کا کشت اٹھایا تھا۔ سبحان اللہ

٭ اسی طرح کے ایک اور مناظرے سے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک بڑے فلسفی نے کہا کہ اگر خدا ہے تو اس کا رخ کس طرف ہے ؟ اس خطرناک سوال سے پورا عالم اسلام بیہوش ہوگیا۔ اتنے میں حضرت فلاں تشریف لائے اور فرمایا، چراغ لاؤ۔ چراغ لایا گیا تو حضرت نے اسے روشن کرکے اس کی لو کی طرف اشارہ کرکے دریافت فرمایا کہ بتاؤ اس لو کا رخ کس طرف ہے ؟ اس پر فلسفی کو شکست فاش ہوگئی اور عالم اسلام واپس ہوش میں آگیا۔

رعایت اللہ فاروقی کا گزشتہ کالم

ایران: کچی دیواریں، چھوٹے گیٹ

چھوڑیئے یہ کہانیاں، ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یونانی فلسفے کا اصل قصہ ہے کیا۔ ہوا یہ تھا کہ آخری رومن حملے سے قبل یونانیوں نے گریک سویلائزیشن کی پوری تاریخی لائبریری سمندری راستوں سے فارس منتقل کردی تھی اور اسے وہاں امانتا رکھوا دیا تھا۔ کیونکہ قدیم جنگوں کا یہ لازمی حصہ تھا کہ مفتوح کی لائبریریاں نذرآتش کردی جاتی تھیں۔ انسانی تاریخ میں مسلمان پہلے جنگجو تھے جنہوں نے لائبریریوں کو نذر آتش کرنے کی بجائے ان سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی متعارف کرائی تھی۔ اس زمانے کی دو بڑی لائبریریاں اس کی مثال ہیں۔ ایک فارس میں موجود گریک لائبریری اور دوسری اسکندریہ والی مصری لائبریری۔

چنانچہ فارس کی فتح کے بعد جب گریک لائبریری مسلمانوں کے ہاتھ لگی تو انہوں نے اس کےتراجم کرانے شروع کردیئے۔ اب اگر آپ نے گریک سولائزیشن کو ذرا سا بھی تفصیل سے پڑھا ہو تو ان کے ہاں تصور خدا عجیب و غریب اور پیچدار ہے۔ ظاہر ہے ایک نہایت غیر معمولی فلسفی تہذیب تھی سو جس لیول کے وہاں دماغ تھے اسی لیول کے وہاں تصور خدا تھے۔ چنانچہ جب یہ مواد عربی اور فارسی میں ترجمہ ہوا اور مسلمانوں نے پڑھا تو ان کا دماغ ہی نہیں عقائد بھی خراب ہوتے چلے گئے۔ اور یوں عقائد کے باب میں ہی کئی فرقے بنتے چلے گئے۔اور انہوں نے آپس میں ہی ایک دوسرے سے مناظرے بھی شروع کر دیئے اور نوبت فتوؤں تک بھی چلی گئی۔ اور یہیں سے قرآن کا پیش کردہ عقیدہ توحید ایک طرف ہوتا گیا اور فلسفیانہ ڈھکوسلے غالب آتے گئے۔

اب ایک دلچسپ بات دیکھئے۔ یہ آج کل کے میڈ ان چائنا ساشے پیک ابن عربی تو آپ کو یہ بتاتے ہیں ناں کہ جب مسلمانوں نے فلسفہ اور منطق پڑھ لیا تو یوں معقولات کی مدد سے انہوں نے دین کو غرق ہونے سے بچا لیا۔ لیکن ذرا حقیقت دیکھئے کہ جب غزالی آئے تو انہوں نے تہافۃ الفلاسفہ اور مقاصد الفلاسفہ لکھ کر ثابت کیا کہ ان فلسفیانہ عقائد کو اختیار کرنے والا ہر شخص کفر بواح کا مرتکب ہے۔ یعنی غزالی کے نزدیک وہ مسلمان ہی پکے کافر ہوگئے تھے جو اس خوش فہمی کا شکار تھے کہ ہم نے فلسفے کی مدد سے اسلام کو بچا لیا ہے۔ یہاں تک کہ جب غزالی سے سوال ہوا

“کیا شیخ بو علی سینا بھی کافر ہیں ؟”

تو فرمایا

“اگر وہ اس کا شعور رکھتے تھے اور پھر بھی قبول کر رکھا تھا تو وہ بھی کفر کے مرتکب تھے”

یوں یہ وہ موقع تھا جب فلسفہ سنی مسلمانوں نے لگ بھگ ترک کردیا اور یہ بطور سبجیکٹ شیعہ مکتب فکر کے پاس ہی پناہ گزین ہوگیا۔گویا ہمارے پون انچیے جس فلسفے پر اتراتے ہیں کہ اس کی مدد سے دین کو بچا لیا گیا غزالی نے اسے ہی کفر ثابت کر رکھا ہے اور یہ احمق جانتے بھی نہیں۔

اور یہ جو بات بات پر فرمایا جاتا ہے کہ “کسی کے پاس جواب نہ تھا” اس پر ہمارا یہ سوال لیتے جایئے۔ کیا ہر سوال کا جواب ضروری ہوتا ہے ؟ کیا کسی سوال کا جواب نہ ملنا باطل ہونے اور شکست کی دلیل ہوتی ہے ؟ اگر ایسا ہے تو جب فرعون نے حضرت موسی علیہ السلام سے پوچھا

“پچھلی قوموں کا کیا بنا ؟”

تو موسی علیہ السلام نے تو اس کا جواب قرآن مجید کے مطابق یہ دیا

“اس کا علم میرے رب کے پاس ہے”

یعنی میں نہیں جانتا۔ تو کیا حضرت موسی پر آسمان ٹوٹ پڑا اور فرعون کی خدائی ثابت ہوگئی ؟ اسی طرح اللہ کے رسول ﷺ سے سوال ہوا کہ روح کیا ہے ؟ تو آیت نازل ہوگئی جس میں بس اتنا بتایا گیا کہ امر الہی میں سے ہے، مگر روح کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ تو کیا یہودیوں یا مشرکین کو اس کا جواب نہ ملنا اسلام کے غیر حق ہونے کی دلیل ہوگئی ؟

اسی طرح قیامت کے وقت کے متعلق اللہ کے رسول ﷺ سے سوال ہوا۔ جواب دینے سے خود خدا نے ہی انکار دیا۔ تو کیا قیامت کا وقت نہ بتانے سے اسلام کی صحت مشکوک ہوگئی ؟ کوئی فرق تک پڑا اسلام کو ؟

بات صرف یہ ہے کہ ہمارا فلسفی اور متکلم 12 سو سال سے اسلام پر مفت کا یہ احسان چڑھائے جا رہا ہے کہ اسلام کے پاس جن سوالات کے جواب نہ تھے وہ ہم نے فلسفے اور علم کلام کی مدد سے دیدیئے۔ گویا نعوذ باللہ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بھی زیادہ جانتے ہیں کہ بعض سولات کے جواب تو انہوں نے بھی نہ دیئے مگر ہم نے “تمام” سولات کے جوابات دیدیئے۔ اور سوال پوچھنے والے یونانیوں کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ استغفراللہ الذی لا الہ الاھو الحی القیوم

Related Posts