کراچی کے مشہور شاپنگ مال گل پلازہ میں نامعلوم چوروں کے داخل ہونے اور دن دہاڑے چوری کی وارداتوں کی شکایات سامنے آنے لگی ہیں حالانکہ عمارت بدترین آتشزدگی کے بعد حکومتی احکامات پر بند اور سیل کردی گئی تھی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گل پلازہ کی عمارت میں حفاظت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے چور آسانی سے داخل ہو کر دکانداروں کا قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے۔دکانوں کے مالکان نے بتایا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر نگرانی یا سیکیورٹی کا انتظام نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے یہ وارداتیں ممکن ہو سکیں۔
یہ بات تشویش ناک ہے کہ ایک ایسی عمارت جو غیر فعال ہے اور سیل کی حالت میں ہے وہاں بھی چوری جیسے واقعات پیش آ رہے ہیں جس سے نہ صرف دکانداروں کو مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ عوام میں بھی تحفظ کا احساس ختم ہو رہا ہے۔
گل پلازہ کراچی کے سب سے بڑے اور پرانے شاپنگ مالز میں سے ایک تھا جو اپنی شاندار تجارتی سرگرمیوں اور مختلف اشیاء کی دستیابی کی وجہ سے شہر کے کاروباری مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔
گزشتہ ماہ جنوری میں گل پلازہ میں ایک خوفناک آتشزدگی کا حادثہ پیش آیا جس نے عمارت کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی دکانداروں کا کاروبار تباہ ہو گیا۔ اس سانحے میں کئی افراد جاں بحق اور زخمی بھی ہوئے، جس کے بعد حکومت نے مال کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
گل پلازہ کا یہ سانحہ کراچی کی تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے جس نے نہ صرف کاروباری طبقے بلکہ عام شہریوں کو بھی گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے مال کی عمارت بند رکھی گئی ہے، لیکن اب اس کے باوجود چوریاں اور غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں جو اس علاقے میں سیکیورٹی کی سنگین خامیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
گل پلازہ کے کاروباری اور انتظامی حکام کو فوری طور پر اس مسئلے کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور عمارت میں موثر سیکیورٹی نظام کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ مزید چوری اور نقصان سے بچا جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو بھی اس حساس علاقے کی نگرانی بڑھانی ہوگی تاکہ شہریوں اور دکانداروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
کراچی کی عوام کے لیے گل پلازہ کا حادثہ اور اب چوری کے واقعات دونوں ایک یاد دہانی ہیں کہ شہر میں عوامی تحفظ اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کی کتنی اشد ضرورت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








