ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں سفارتی تعطل نے کھلی عسکری محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لی ہے، اور جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات جو کہ آج کے منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو کسی ڈھکوسلے سے کم نہ تھے، لہٰذا ان کی ناکامی کسی تعجب کی بات نہیں، تاہم اس ناکامی نے خطے کو براہِ راست جنگی ماحول میں دھکیل دیا ہے۔ امریکا کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل حدود کو محدود کرنے کے مطالبات پہلے ہی تہران کے لیے ناقابلِ قبول قرار دیے جا چکے تھے، جس کا امریکا اور اسرائیل کو پس پردہ یقیناً علم تھا۔
امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے تہران سمیت ایران کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق مہرآباد ایئرپورٹ، اصفہان، قم، تبریز، کرمان شاہ اور دیگر مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ ایرانی میڈیا نے صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کے قریب میزائل گرنے کی اطلاعات بھی دیں۔ امریکی وزارتِ دفاع نے اس آپریشن کو “Epic Fury” ، یا عظیم قہر کا نام دیا ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں واضح کیا کہ مقصد ایرانی حکومت سے لاحق خطرات کا خاتمہ اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی میزائل انڈسٹری اور بحری صلاحیتوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران پر “پیشگی حملے” کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی اسرائیل کے تحفظ کے لیے ناگزیر تھی اور اقوام عالم کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ امریکا اسرائیل کی نہ صرف پشت پر موجود ہے بلکہ یہ دونوں ممالک ایک جان دو قالب کے طور پر ہمیشہ رہے ہیں اور آئندہ بھی یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اسرائیل بھر میں اسکول بند کر دیے گئے، عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی اور مقبوضہ بیت المقدس میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے میزائل حملے ہوئے ہیں اور دفاعی نظام متحرک کر دیے گئے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق اسرائیل پر تقریباً پچہتر میزائل داغے گئے جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے ڈرون اور میزائل حملوں کی پہلی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا۔
تاہم اس تصادم کا دائرہ صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہا۔ ایران نے قطر میں العدید ایئربیس، کویت میں السلیم ایئربیس، متحدہ عرب امارات میں الدفرا ایئربیس اور بحرین میں امریکی نیوی کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ اور الجفیر بیس سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات سامنے آئیں جہاں امریکی بحری بیڑا تعینات ہے۔ بحرینی وزارتِ داخلہ نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی جبکہ قطر میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کو شیلٹر میں جانے کا حکم دیا گیا۔ قطری حکام نے شہریوں کو فوجی تنصیبات سے دور رہنے اور موبائل الرٹس کے ذریعے محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی تلقین کی۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی میزائل حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ متعدد میزائل دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیے۔ اماراتی حکومت نے اس حملے کو قومی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدام کا حق محفوظ رکھا ہے۔ سکیورٹی صورتحال کے باعث امارات کی فضائی حدود جزوی طور پر عارضی بند کر دی گئی اور متاثرہ مسافروں کو رہائش فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ کویت میں بھی دھماکوں اور سائرن کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ کویتی افواج نے میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ اردن نے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کی تصدیق کی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کس جانب سے فائر کیے گئے تھے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنا دفاع جاری رکھے گا اور خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے اس کی پہنچ میں ہیں۔ ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیشن کے سربراہ نے اسرائیل کو دوٹوک پیغام دیا کہ “وارننگ دی جا چکی، اب جو ہوگا وہ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔” دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے اسرائیل اور سمندری جہاز رانی کے راستوں پر حملے شروع کرنے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تجارت کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔
اگرچہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عام شہریوں کو فوری طور پر بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا سامنا نہیں ہوا، تاہم معاشی محاذ پر اس بحران کے اثرات فوری اور شدید ہیں۔ تیل کی منڈیوں میں بے یقینی، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی معطلی اور تجارتی راستوں پر خطرات نے خطے کی معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ روس سمیت کئی ممالک نے ایران اور اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ متعدد ریاستوں نے حملے سے قبل ہی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کردی تھی۔
خدشہ یہی ہے کہ اس کشیدگی کی آگ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہ رہے۔ پاکستان سمیت پورا خطہ اس کے سیاسی، معاشی اور سفارتی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ امریکا اور اسرائیل کی حکمتِ عملی بظاہر ایران میں ممکنہ رجیم چینج، جوہری صلاحیت کے خاتمے اور میزائل پروگرام کی بیخ کنی پر مرکوز ہے، جبکہ ایران واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت اور علاقائی اثرورسوخ سے دستبردار نہیں ہوگا۔ضروری ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے علاوہ خلیجی ممالک بھی اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لیں اور جنگ و جدل روکنے کیلئے تمام تر مسائل کا پر امن حل تلاش کریں، مگر اس کے آثار کم محسوس ہوتے ہیں اور یہ جنگ تباہی و بربادی تک جاری رہنے کے امکانات نظر آتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں