گزشتہ 76سال میں پاکستانی قوم نے اتنا قرض نہیں لیا ہوگا جتنا ہم عالمی اداروں اور بینکوں کو سود ادا کر رہے ہیں اور اب صورتحال اتنی دگرگوں ہوچکی ہے کہ پاکستان کے بچے بچے کا بال بال قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔
آج سے 3 روز قبل سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں اقرار کیا کہ پاکستان کا مجموعی قرض 64 ہزار ارب کی نئی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے اگست 2023 میں 2 ہزار 218ارب روپے نیا قرض لیا جبکہ پاکستان کے مقامی قرض کے بوجھ میں 24 فیصد اضافہ ہوا اور قرض کی سطح 39 ہزار 792 ارب تک جا پہنچی۔
اگست 2023 کی بات کی جائے تو پاکستان پر بیرونی قرضے 24 ہزار 175ارب روپے رہے اور وفاقی حکومت نے اب تک جو قرض اٹھایا ہے، اس کی مالیت 64 ہزار ارب کی سطح پر آچکی ہے۔
اس سے قطع نظر کہ آرمی کا کام معاشی مسائل کو درست کرنا نہیں، دو روز قبل آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے کراچی کا دورہ کیا، نگران وزیر اعلیٰ سندھ مقبول باقر کے ہمراہ اپیکس کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے اور نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان اور دیگر امور پر بریفنگ لی۔
اس دوران گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ”معیشت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کے خلاف ایکشن جاری رہے گا۔“ یوں محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ملک میں معیشت کے حوالے سے جتنی بھی بہتری آرہی ہے جس میں روپے کی قدر میں بہتری اور پیٹرولیم کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں، ان میں پاک فوج کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔
تجارتی خسارے سے مراد درآمدات و برآمدات کا توازن ہے یعنی اگر درآمدات زیادہ اور برآمدات کم رہیں تو ان کے مابین فرق کو تجارتی خسارہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا مطلب لیا جاتا ہے کہ اس ملک نے بیرونِ ملک سے چیزیں منگوانے کیلئے جو اخراجات کیے، اپنا سازوسامان اور مصنوعات بیچ کر بیرونِ ملک سے جو زرِ مبادلہ حاصل کیا، وہ اس سے کم رہا۔
ستمبر 2023 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 668اعشاریہ 6ارب سے سمٹ کر 433اعشاریہ 8ارب کی سطح پر آگیا جسے خوش آئند قرار دیا جاسکتا ہے تاہم توانائی کا بحران مشکلات پیدا کررہا ہے۔
ملکی صنعتوں کو جتنی بجلی اور گیس کی ضرورت ہے، حکومت وہ مناسب مقدار اور کم قیمت پر مہیا نہیں کرپارہی۔ عوام الناس کو بھی بجلی کے بھاری بھرکم بلز کا سامنا ہے جس پر ملک گیر احتجاج بھی ہوچکا ہے۔
سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کو معاشی مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے کون سے اقدامات اٹھائے گی اور کیا ملکی قرض اور مہنگائی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھیں گے؟ کیونکہ اگر ایسا ہوا تو عوام ملکی مستقبل اور معیشت کی بحالی کی امید چھوڑ دیں گے، جبکہ یہ امید ہی پاکستان کو قائم و دائم رکھے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں