”روشنی کے مسافر“ کی کہانی!

تازہ ترین

تازہ ترین

ضیاءچترالی قدسیانِ عصر اہل غزہ و جملہ فلسطین کے درد کی توانا آواز اور جہانِ اردو میں کائنات کے مظلوم ترین لوگوں کی آواز پہنچانے والا سب سے بڑا اور معتبر و مستند حوالہ ہیں۔ وہ نہ صرف دنیا کی اس سب سے بڑی اوپن ایئر جیل یعنی غزہ سے براہ راست فرسٹ ہینڈ معلومات ہم تک پہنچاتے ہیں، بلکہ خلوص اور دردِدل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ دنیا بھر سے امداد اکٹھی کرکے غزہ پہنچانے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ الغرض اگر کسی کو سراپا فدائے غزہ دیکھنا ہو تو وہ ضیاءچترالی ہیں۔ وہ ایک مدرسہ فاضل ہیں۔ ان کی تعلیم مِن اوّل الیٰ آخر مدرسے کی ہی ہے۔ وہ مدرسے کی چٹائیوں سے اٹھے اور آج اس مقام پر ہیں کہ ایک دنیا نہ صرف انہیں جانتی ہے بلکہ للہ فی اللہ ان سے محبت بھی کرتی ہے۔ یہ منصبِ بلند ملا جس کو مل گیا۔ ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔

ابھی میں نے عرض کیا کہ وہ مدرسے کی چٹائیوں سے اٹھے…. اگلے ہی سانس نے یاد دلایا کہ ابھی کہاں اٹھے، وہ اب بھی مدرسے کی چٹائیوں پر ہوتے ہیں۔ پہلے لمبا عرصہ ان چٹائیوں پر بیٹھ کر تعلیم دین حاصل کی، خود کو رگڑا دیا اور اپنی صلاحیتوں کو اچھی طرح مانجھا۔ آج انہی چٹائیوں پر بیٹھ کر نہ صرف طالبانِ دین کو تعلیمِ دین دے رہے ہیں بلکہ ان کی جملہ صحافتی اور عملی خدمات بھی انہی چٹائیوں سے جاری ہیں۔

میرے لیے فخر کی بات ہے کہ ضیاءچترالی اور میں ہم وطن، ہم درس و ہم مکتب ہیں۔ وہ جو فارسی شاعر نے کہا ہے: ما و مجنون ہم سبق بودیم در دیوانِ عشق۔ ہم جانتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایک مخلص، ہمدرد، محنتی، لائق اور مطالعہ کے رسیا انسان ہیں اور آج ان کی ذات کی اِنہی صفات نے انہیں اس مقام تک پہنچا دیا ہے۔ محنت، مطالعہ اور قابلیت یہی وہ جوہر ہیں جنہوں نے ان میں تحقیق و جستجو کی آبیاری کی اور فطری طور پر ان کیلئے عملی میدان میں صحافت کے کوچے کی راہیں کھل گئیں، جہاں اُمت جیسے تحقیقی صحافت کا باوقار نام اُن کا پہلا پڑاو¿ بنا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اندر قابلیت، محنت اور تحقیق کی خو بو نہ ہوتی تو نہ صرف یہ کہ اُمت میں ان کیلئے چلنا مشکل ہوجاتا بلکہ وہ امت میں سروائیو کرتے ہوئے بھی کوئی بڑا نام نہ بنا پاتے۔ ان کی ذات کے اس خام جوہر کو اُمت کی جان گسل ریاضتوں نے ”کندن“ بنا دیا۔ آج مدرسے کا یہ بوریا نشین تحقیقی صحافت کے ایک خاص گوشے کا مستند حوالہ ہے۔

آپ بیتی اور سوانح ادب کی ایک مقبول و معروف صنف ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ یہ ادب کی سب سے دلچسپ اور سب سے زیادہ پڑھی جانے والی صنف ہے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے متعلق جاننے اور دوسروں کے سرِ بالیں جھانکنے کی جستجو رکھتا ہے، جس کی تسکین اسی صنف سے مل سکتی ہے۔ آپ بیتی اور سوانح جہاں ادب کی صنف ہیں، وہاں سوانح تاریخ کا ہمسایہ بھی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کا ماخذ بھی بنتے ہیں اور حوالہ بھی۔ تاریخ میں بہت سی چیزیں مثلاً کسی شخصیت کی زندگی کی جزئیات بیان سے رہ جاتی ہیں تو سوانح یہ کسر پوری کردیتے ہیں۔ اسی ذیل میں شخصی خاکے بھی آتے ہیں۔ حال ہی میں برادرم ضیاءچترالی کی کتاب ”روشنی کے مسافر“ چھپ کر آئی ہے۔ میرے لئے یہ یوں بھی اضافی خوشی و مسرت کا باعث ہے جیسے میرے بھائی کے آنگن میں زندگی کا ایک نیا پھول اُگا ہو اور اولاد نرینہ پیدا ہوئی ہو۔ نرینہ اولاد اس لیے کہ ضیاءبھائی کے آنگن میں پھولوں کی اِس قسم کی کمی ہے۔ این دعا از من و از جملہ جہاں آمین باد کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس نعمت سے بھی سرشار و شاد کام کرے۔

بات ہو رہی تھی سوانح و آپ بیتی کی۔ ”روشنی کے مسافر“ بھی ایک طرح سے ادب کی اسی سوانحی صنف کی ایک قسم ہے۔ یہ کتاب بھی بہت سے لوگوں کی زندگی کا ایک خاص گوشے اور لائف شفٹ کا حال بیان کرتی ہے، جو لاکھوں کروڑوں لوگوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے۔ ”روشنی کے مسافر“ دنیا کے مختلف ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد افراد کے قبولِ اسلام کی ایمان افروز داستانوں کا مجموعہ ہے، جن میں چند ایک کے علاوہ باقی سب مشہور شخصیات ہیں۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے قریب کے زمانے میں کفر کی ظلمتوں سے دین حق کی روشنی کا سفر کیا ہے۔ ان میں بڑے بڑے سائنس دان، سیاست دان، فلسفی، نامور کھلاڑی، شہرت یافتہ شوبز پرسنز، ریکارڈ یافتہ مجرم، بڑے بڑے دولت مند، سیلیبرٹیز اور علمی شخصیات شامل ہیں۔ یہ ساری داستانیں متعلقہ افراد کے اپنے انٹرویوز اور معتبر انگریزی و عربی جرائد اور ویب سائٹس سے ماخوذ ہیں۔

یہ وہ موضوع ہے جو ہر دور میں نہایت دلچسپی سے پڑھا اور سنا جاتا رہا ہے۔ چنانچہ دنیا کی بہت سی زبانوں میں ایسی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ یہ داستانیں لکھنے کی کئی وجوہ ہوتی ہیں۔ مقصد صرف ذوق کی تسکین نہیں ہوتا۔ ان داستانوں سے موٹیویشن ملتی ہے۔ آپ مسلمان ہیں تو یقینا ان داستانوں سے آپ کے ایمانی جذبات کو بوسٹ ملے گا۔ ماضی میں ہم اُردو کے حوالے سے بات کریں تو ہمارے قلب و ذہن پر سنِ شعور سے ہی اس موضوع پر جناب ڈاکٹر عبدالغنی فاروق مرحوم کا نام نقش نظر آتا ہے۔ اُن کی کتاب ”ہم کیوں مسلمان ہوئے؟“ ایسی ہی ایمان افروز داستانوں کا مرقع ہے اور دہائیوں تک کئی نسلوں کے ایمانی جذبات کو تسکین پہنچاتی رہی ہے۔ وہ بلاشبہ اپنے دور کی شاہکار کتاب تھی جو لاکھوں بار پڑھی گئی ہوگی اور جس کے اقتباسات اور حوالے آج بھی اخبارات اور جرائد میں چھپتے ہیں۔ برادرم ضیاءچترالی کی اس کتاب نے اس موضوع پر آنے والے تقریباً دو دہائیوں کے انقطاع کو پاٹ دیا ہے جو ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کی اس موضوع پر آنے والی دو کتابوں کے بعد طویل عرصے تک چھایا رہا۔

ڈاکٹر عبدالغنی فاروق کی دوسری کتاب ”ہمیں خدا کیسے ملا؟“ 2005 میں منظر عام پر آئی، اب ٹھیک بیس سال بعد ایمان افروز داستانوں کے اس سلسلے کا علَم ”روشنی کے مسافر“ نے تھام لیا ہے۔ میری دعا ہے کہ یہ پرچم یونہی سلامت رہے اور ہم اور آنے والی کئی نسلیں اس موضوع پر برادرم ضیاءچترالی کی کتابوں سے اپنے ایمان و یقین کو جلا بخشتے رہیں، آمین۔

کتاب ملنے کا پتہ: مکتبۃ الحماد دکان نمبر 8 سلام کتب مارکیٹ نزد بنوری ٹاؤن کراچی
باقی خواہشمند احباب گھر بیٹھے آن لائن بھی منگوا سکتے ہیں۔ قیمت مع ڈیلیوری چارجز صرف 850 روپے۔ صفحات 464
رابطہ نمبر۔ کال اور واٹس ایپ:
03473645550
03131246642

۔

Related Posts