معصوم فلسطینی بچے پر بدترین اسرائیلی ظلم۔ امریکا بھی چیخ اٹھا

تازہ ترین

تازہ ترین

13 سالہ معصوم فلسطینی بچے پر صہیونی ظلم نے امریکا کی بھی چیخیں نکلوا دیں۔ اسرائیلی فورسز کے بدترین ظلم پر اسرائیل کا سرپرست امریکا بھی خاموش نہیں رہ سکا، تاہم امریکی تنقید پر اسرائیل تلملا کر امریکا پر غصہ اتارنے لگا۔

امریکا میں اسرائیلی سفارت خانے نے امریکی وزارت خارجہ کے دفتر کے لیے ایک غیر معمولی عوامی سرزنش جاری کی ہے۔ یہ تنقید اسرائیل کے یروشلم (مقبوضہ القدس) میں ایک فلسطینی مکان کے انہدام پر امریکی تنقید کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکی آفس برائے فلسطینی امور نے ایکس ویب سائٹ پر پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کی حکومت نے 13 سالہ فلسطینی بچے کی مبینہ کارروائی کے جواب میں اس کے پورے خاندان کا گھر مسمار کردیا ہے۔

غزہ میں جنگ بندی میں امریکا رکاوٹ ہے، فلسطینی صدر کی امریکا پر تنقید

امریکا نے مزید کہا کہ ایک فرد کے اقدامات کی وجہ سے ایک پورے خاندان کو اپنا گھر نہیں کھونا چاہئے۔

امریکا کی اس تنقید پر اسرائیل کو آگ لگ گئی، چنانچہ اسرائیلی سفارت خانے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، غصے میں بھرپور جواب دیا کہ کہانی کا سیاق و سباق اہم ہے۔ 13 سالہ ایک “دہشت گرد” نے اسرائیلی شہری کو موت کے گھاٹ اتار کر ہلاک کیا تھا۔

دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی اس نوعمر کے نام کا ذکر نہیں کیا لیکن اسرائیلی میڈیا اسے محمد الزالبانی بتاتا ہے، جس کے متعلق دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس معصوم بچے نے فروری میں مشرقی یروشلم میں ایک بس کی تلاش کے دوران اسرائیلی سرحدی پولیس اہلکار کو چھرا گھونپا تھا۔

یہ قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے گزشتہ دنوں پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مشرقی یروشلم کے شعفات پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر کو مسمار کردیا تھا۔

Related Posts