امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سال کے آغاز میں کرد مسلح گروہوں کے ذریعے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین تک ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ ہتھیار کرد تنطیموں نے خود رکھ لیے۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے مظاہرین تک پہنچانے کے لیے بڑی تعداد میں اسلحہ بھیجی تھیں تاہم کردوں نے انہیں استعمال کرنے کی بجائے اپنے پاس رکھ لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ پیر 6 اپریل تک کسی معاہدے کے قوی امکانات ہیں لیکن ساتھ ہی دھمکی بھی دی کہ اگر تہران نے فوری اقدام نہ کیا تو امریکا سب کچھ اڑا دے گا اور ایران کے تیل پر قبضہ کرلے گا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی مذاکرات کار پہلے ہی بات چیت کیلئے میز پر موجود ہیں اور امریکی جانب سے انہیں عام معافی بھی دی گئی ہے تاکہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہ سکے تاہم تہران کی جانب سے اس بیان پر فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے رابطے میں ہے۔
واضح رہے کہ خطے میں کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملہ کیا جس میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1340 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
امریکی اور اسرائلی حملوں کے جواب میں ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی افواج پر ڈرون اور میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حرکت محدود کر دی جہاں سے جنگ شروع ہونے سے پہلے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوتی تھی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








