سادہ لباس میں آئے اور نوبل انعام یافتہ نرگس محمدی کو اٹھا کر لے گئے! اقوام عالم کا شدید ردعمل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

ایرانی سیکیورٹی فورسز نے نوبل انعام یافتہ مصنفہ اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن نرگس محمدی کو گرفتار کر لیا ہے۔ گزشتہ رات گئے سادہ لباس میں ملبوس سیکیورٹی اہلکاروں نے 2023 کے نوبل امن انعام کی فاتح نرگس محمدی کو مبینہ طور پر پرتشدد طریقے سے حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری مشہد میں معروف انسانی حقوق کے وکیل خسرو علیکردی کی ساتویں یادگاری تقریب کے دوران عمل میں آئی جس میں دیگر انسانی حقوق کے کارکنان بھی شریک تھے۔

فری نرگس کولیشن نے ان گرفتاریوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نرگس محمدی اور دیگر زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

نرگس محمدی ایک ممتاز انسانی حقوق کی محافظ، مصنفہ اور صحافی ہیں جو ایک سال قبل ایرانی حکام کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کے بعد جیل سے مشروط رہائی پر باہر آئی تھیں۔ انہیں مشہد میں خسرو علیکردی کی یاد میں منعقدہ تقریب میں تقریر کے بعد گرفتار کیا گیا۔ خسرو علی کردی 5 دسمبر 2025 کو مشکوک حالات میں انتقال کر گئے تھے تاہم مشہد کے جنرل پراسیکیوٹر نے دعویٰ کیا کہ ان کی موت دل کی پیچیدگیوں کے باعث ہوئی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصدیق شدہ تصاویر اور ویڈیوز میں نرگس محمدی کو زندہ باد ایران کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے ہمراہ علی کردی کے بھائی اور انسانی حقوق کے وکیل جواد علی کردی، انسانی حقوق کی کارکن، مصنفہ اور فری لانس صحافی سپیدہ قلیان بھی موجود تھیں۔

 

گرفتار کیے گئے دیگر افراد میں سماجی کارکن اور آزاد فوٹو جرنلسٹ عالیہ مطلب زادہ بھی شامل ہیں جو اکتوبر 2020 سے فروری 2023 تک قید رہ چکی ہیں اور حال ہی میں ایک طبی سرجری سے گزری ہیں۔ اس کے علاوہ ہستی امیری، سپیدہ قلیان اور پوران ناظمی کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

فری نرگس کولیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے مطابق یہ گرفتاریاں ایران میں انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خسرو علیکردی کی موت کے بعد اجتماع کی آزادی، اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

Nobel peace prize laureate Narges Mohammadi arrested in Iran | Iran | The Guardian

دسمبر 2024 میں طبی بنیادوں پر رہائی کے بعد سے نرگس محمدی کو مسلسل سرکاری سرپرستی میں ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا رہا ہے۔ جولائی 2025 میں وزارتِ اطلاعات نے انہیں میڈیا سے بات کرنے اور انسانی حقوق کے حوالے سے سرگرمیوں سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی تھی۔

ایرانی حکام نے تاحال گرفتاریوں کی وجوہات یا حراست کی جگہ سے متعلق کوئی باضابطہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ نرگس محمدی ایران کے ڈیفنڈرز آف ہیومن رائٹس سینٹر کی نائب ڈائریکٹر اور ترجمان بھی رہ چکی ہیں اور وہ ریاست کے خلاف پروپیگنڈا اور ریاستی سلامتی کے خلاف سازش جیسے الزامات کے تحت 10 سال سے زائد عرصہ جیل میں گزار چکی ہیں۔

نرگس محمدی کو متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے جن میں 2023 کا نوبل امن انعام، یونیسکو/گیلرمو کانو ورلڈ پریس فریڈم پرائز، پی ای این/باربے فریڈم ٹو رائٹ ایوارڈ اور رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کا پرائز فار کریج شامل ہیں۔

فری نرگس کولیشن کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان، جس کی قیادت نرگس فاؤنڈیشن، پی ای این امریکہ، رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز اور فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کر رہے ہیں۔ بیان میں نرگس محمدی اور دیگر تمام زیرِ حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور فری نرگس ہیش ٹیگ کے ذریعے عالمی حمایت کی اپیل کی گئی ہے۔

Related Posts