شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی کے گاؤں عیسوڑی میں ایک مدرسے بارودی مواد کو کھلونا سمجھ کر کھیلتے ہوئے اچانک دھماکے سے 2 بچے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 8 بچے شدید زخمی ہیں جنہیں علاج و معالجے کے لیے اسپتال منتقک کردیا گیا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق المناک حادثہ فتنہ الخوارج کے چھوڑے گئے پرانے بارودی مواد کے ساتھ کھیلنے کے دوران پیش آیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ دھماکہ خیز مواد فتنہ الخوارج کی طرف سے دہشت گردی کے عروج کے دوران لگائی گئی بارودی سرنگوں اور امپرووائزڈ دھماکہ خیز آلات کا باقیات تھا۔ خیبر پختونخوا میں ان سرنگوں کا وسیع پیمانے پر استعمال سیکیورٹی آپریشنز کو روکنے اور دہشت پھیلانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
اسوری کے گردونواح کے پہاڑی سلسلے ایک وقت میں دہشت گردوں کے اڈے ہوا کرتے تھے جہاں سے وہ مختلف حملے کرتے تھے۔ اس سے قبل باجوڑ، لکی مروت اور دیگر اضلاع میں بھی اسی طرح کے افسوسناک حادثات پیش آچکے ہیں جن میں اکثر خواتین اور بچے متاثر ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی ایجنسیز کے مطابق خیبر پختونخوا میں 114 مربع کلومیٹر رقبہ بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کے باقیات سے آلودہ پایا گیا تھا۔ پاکستان آرمی نے اب تک وسیع پیمانے پر ڈی مائننگ آپریشنز کے ذریعے 82 مربع کلومیٹر رقبے کو صاف کر دیا ہے جبکہ باقی علاقوں میں کام جاری ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ آپریشنز شہریوں کی حفاظت اور مزید جانی نقصانات کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
حکام نے خبردار کیا ہےکہ خوارج کا انتہا پسند ایجنڈا اب بھی صوبے میں امن وامان کیلئے سنگین خطرہ ہے۔ زخمی بچوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








