غزہ پر اسرائیلی جارحیت میں اضافے کے ساتھ مسلم دنیا بالخصوص فلسطین کے پڑوسی عرب ممالک کے عوام میں اسرائیل کیخلاف غم و غصہ بھی نقطہ انتہا کو چھو رہا ہے۔
جمعے کے دن فلسطین کے پڑوسی عرب ملک اردن کے مشتعل عوام کی بڑی تعداد نے اسرائیل کی سرحدوں کا رخ کیا، جنہیں اردنی سیکورٹی فورسز نے بڑی مشکل سے سرحد کی طرف بڑھنے سے روکا۔
اردنی فورسز کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ہزاروں شہریوں نے غم و غصے اور شدید اشتعال کی کیفیت میں اسرائیل کی سرحدوں کی طرف مارچ کرنا شروع کر دیا۔
اس موقع پر اردنی فورسز اور مشتعل عوام کے درمیان سرحد کا قریبی علاقہ میدان جنگ بنا رہا۔ فورسز نے بڑے پیمانے پر آنسو گیس کے گولے برسائے اور زبردستی مشتعل عوام کو پیچھے دھکیلا۔
سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے اطلاع دی ہے کہ مظاہرین نے اردنی سیکورٹی فورسز کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کیے تھے، تاہم فورسز بالآخر انہیں سرحد تک پہنچنے سے روکنے میں کامیاب ہوگئیں۔
قوات الأمن الأردنية تطلق قنابل الغاز المسيل للدموع بكثافة على الأردنيين المتجهين نحو الحدود مع فلسطين المحتلة نصرة لغزة التي تباد من الصهانية بدعم أوروبي وأمريكي.
الأهالي يقومون بتوزيع البصل على الشباب.
والشباب مستمرين في التقدم نحو الحدود باستخدام الطرق الفرعية والجانبية.… pic.twitter.com/WfMT7favK0
— Sameer Mashhour ???????????????? (@sameermashhour) October 13, 2023
واضح رہے کہ اردن کی فلسطین و اسرائیل کے ساتھ سب سے طویل سرحد لگتی ہے، جس کی لمبائی 238 کلومیٹر ہے اور اس سرحد پر دو کراسنگ موجود ہیں۔
فلسطین اور بالخصوص غزہ کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر اردن کی وزارت داخلہ نے پہلے ہی سرحدی علاقوں میں مظاہروں پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اردنی وزارت داخلہ نے اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں قرار دیا ہے کہ فلسطینی صورتحال کے پس منظر میں اردن کے عوام کے تحفظ کی خاطر وادی اردن اور سرحدی علاقوں میں اجتماعات اور مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اردنی پبلک سیکورٹی نے بھی عوام کو صرف اجتماعات کے لیے مختص مقامات پر ہی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی ہدایت کی تھی، تاہم اسرائیل کی وحشیانہ بمباری سے مشتعل اردن کے عوام میں بڑھنے والا غم و غصہ رفتہ رفتہ ان پابندیوں کی خلاف ورزی کی صورت میں ظاہر ہوتا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








