راولپنڈی:پاکستان میں جنسی زیادتی کے واقعات میں کمی واقع نہ ہوسکی۔جہلم میں گونگی بہری لڑکی کے سامنے تین ملزمان نے اُس کی بہن کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
متاثرہ لڑکی تسنیم اقبال نے بتایا کہ میں پننوال کی رہائشی ہوں کچھ دن قبل میں اپنی ہمشیرہ عشرت فاطمہ جس کی عمر 20 سال ہے جو کہ گونگی اور بہری ہے گھر میں موجود تھی دن دو بجے میرے ماموں کا بیٹا علی محمد ہمارے گھر آیا اور مجھے اور میری بہن کو ٹیلی فون خریدنے کے بہانے پنڈی سید پور لے آیا۔
جہاں اس نے مجھے ٹیلیفون دیا اور کہا کہ میں اس ٹیلی فون کے ذریعے تم سے رابطہ کر لیا کروں گا،پنڈی سید پور سے علی محمد ہم دونوں بہنوں کو جلال پور جنگل میں لے کر آگیا اور بذریعہ ٹیلیفون مزید دو لڑکوں کو کال کرکے بلایا جن کے نام محسن اور انعام ہیں۔
ان تینوں نے رات گیارہ بجے مجھ سے باری باری زیادتی کی، میرے واویلا کرنے پر میری بہن نے بھی مذمت کی تو تینوں ملزمان نے میری بہن عشرت فاطمہ کو باندھ دیا اور تھپڑ مارے۔
اس کے بعد ایک موٹر سائیکل پر میرا ماموں زاد محسن میری بہن کو بٹھا کر اور دوسرے موٹرسائیکل پر مجھے بٹھا کر منڈی بہاولدین لے گئے اور وہاں شہر میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی تسنیم اقبال کا میڈیکل کرایا اور رپورٹ پازیٹو آنے کے بعد زنا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے،تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کا کہنا ہے کہ مجھے انصاف دیا جائے میری بربادی میں میرا اپنا کزن محمود شامل ہے۔
لڑکی نے مطالبہ کیا کہ ان تمام ملزمان کو نشان عبرت بنایا جائے،جنہوں نے میری زندگی برباد کر دی ہے،کیا ریاست مدینہ میں انصاف مل جائے گا اور کیا ریاست مدینہ میں عورتوں کے ساتھ آئے روز زیادتی ہونا بند ہو گی؟لڑکی کا کہنا تھا یہ میرے کچھ سوال ہیں ریاست مدینہ کے حکمران سے۔