تین ماہ تک مسلسل سرپلس رہنے والا کرنٹ اکاؤنٹ منفی ہوگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک
(فوٹو: اردو پوائنٹ)

گزشتہ 3 ماہ سے مسلسل سرپلس رہنے والا کرنٹ اکاؤنٹ کھاتہ منفی ہوگیا۔ اپریل کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ کا حجم 32 کروڑ ڈالرز سے زائد خسارے کا شکار ہوا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے کرنٹ اکاؤنٹ سے متعلق اعدادوشمار جاری کردئیے۔ اپریل 2026 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کے خسارے کا شکار رہا اور رواں مالی سال کے دوران پہلی بار ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس نہیں رہا۔

اس سے قبل جنوری میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 7 کروڑ ڈالرز جبکہ فروری میں 23 کروڑ ڈالرز سرپلس رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں برس پہلی بار ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی بجائے خسارے میں گیا ہے۔ مارچ میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کا حجم1ارب 13کروڑ ڈالر سرپلس رہا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ ملکی معیشت کمزور معاشی پالیسیوں کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار ہوئی جن میں درآمدات میں اضافہ، برآمدات میں کمی اور دیگر وجوہات شامل ہیں۔

Related Posts