دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم کشمیری عوام آج یومِ حق خود ارادیت منا رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ نے 5 جنوری 1949ء کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرکے استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا تھا۔ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی یاد میں مقبوضہ جموں و کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر کے مختلف ملکوں میں مقیم کشمیری یومِ حق خود ارادیت مناتے ہیں۔

1947کو برطانیہ سے آزادی کے بعد پاکستان اور بھارت کے نام سے دو خود مختار ریاستیں وجود میں آئیں جبکہ 1947میں برصغیر کی تقسیم کے وقت 565کے قریب خودمختار ریاستیں تھیں اوربرطانوی حکومت نے ان ریاستوں کو حق دیا تھاکہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ ریاست جموں و کشمیرکی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی مگر حکمران مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھاجس کی کوشش تھی کہ کشمیر کی آزاد حیثیت بحال رہے اس لئے اس نے پاکستان اور بھارت سے سٹینڈ سٹل ایگریمنٹس کیے۔

اکتوبر1947میں راجہ ہری سنگھ نے برطانوی فوج کے مسلم سپاہیوں سے اسلحہ ضبط کر کے ہندوآبادی میں بانٹنا شروع کیا تو مسلم آبادی نے مشتعل ہوکربغاوت کردی۔ کشمیر میں جاری خانہ جنگی کے زور پکڑنے کے بعد26 اکتوبر 1947 کوکشمیر کے مہاراجہ نے کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی مشروط دستاویز پر دستخط کر دیئے کہ جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے کشمیر میں رائے شماری ہو گی۔

مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کردیا اور خود دہلی میں چھپ گیاتاہم پاکستان نے اس الحاق کو ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ابھی سٹینڈ سٹل معاہدہ قائم تھا لیکن 27 اکتوبر 1947 کوبھارت نے کشمیر میں بغاوت کو کچلنے کیلئے سری نگر میں اپنی فوجیں اتار دیں جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ کاآغاز ہوا۔

یکم جنوری 1948کو بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی جس پر5 فروری 1948کواقوام متحدہ نے کشمیر میں رائے شماری کیلئے ایک قرارداد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

1948ء میں اس تنازعے کو بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ میں لے کرگئے اگر اس وقت سلامتی کونسل مداخلت نہ کرتی تو مزید چندروز میں کشمیر کی پوری وادی آزاد کرالی جاتی کیونکہ تقسیم ہند کے لئے تاج برطانیہ کے قانون کے مطابق ہندو اکثریتی علاقے بھارت اور مسلمان اکثریت والے علاقے پاکستان کا حصہ بننا تھے۔

بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے سلامتی کونسل سے بھارت واپسی کے بعد قرارداد کو فراموش کردیا ، بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر تین جنگیں ہوچکی ہیں جبکہ بھارت آج بھی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو بھی پائوں تلے روندتے ہوئے دنیا کو آنکھیں دکھا رہا ہے اور کسی صورت اقوام متحدہ کی ان قراردادوں کو اہمیت دینے پر آمادہ نہیں۔

بھارت کی جانب سے کشمیری عوام پر ظلم وجبر کا سلسلہ جاری ہے، بھارت نے گزشتہ سال اگست 2019 ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد تاحال کشمیر میں کرفیو نافذ کر رکھا ہے ۔ آج پوری دنیا کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تو کررہی ہے تاہم بے لگام بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کی میز تک لانے کیلئے کوئی بھی نکیل ڈالنے کو تیار نہیں ہے تو ایسے میں کیا صرف یوم حق خود ارادیت منانے سے کشمیریوں کو حقوق مل سکتے ہیں ؟۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








