استنبول: ترکیہ کے شہر استنبول میں ہونے والے دھماکے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔
ترک وزیرداخلہ کے مطابق ملزم نے استنبول کی استقلال اسٹریٹ پربم نصب کیا تھا جب کہ ترک وزیر نے کردستان ورکرز پارٹی کو حملے کا ذمے دار قرار دیا ہے، اس سے پہلے ترک صدر نے خاتون کو بھی حملے کا ذمے دار قرار دیا تھا۔
Saldırıyı gerçekleştiren kadının en net görüntüsü.
Ayağında botlar, kamuflajlı pantolon, deri ceket, siyah başörtü ve elinde gül… Aşırı dikkat çekici. Bir örgüt neden eylem yaptıracağı teröristi bu eşgalle eyleme gönderir? pic.twitter.com/ywxPqS5bkX
— Frank William (@frank_william1) November 13, 2022
خیال رہے کہ استنبول میں ہونے والے بم دھماکے میں 6 افراد جاں بحق اور 81 زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکےکے وقت سیاحوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور اتوارکا روز ہونے کے باعث تقسیم اسکوائر پر سیاحوں کا رش تھا۔
او آئی سی نے کابل میں نیا دفتر کھول دیا
دھماکے کے وقت کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر سیاحوں کی بڑے تعداد موجود تھی اور دھماکے کے بعد افراتفری پھیل گئی۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی استنبول خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استقلال اسٹریٹ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر بے حد افسوس ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں، پاکستان ترکیہ کےعوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، ہر طرح کی دہشت گردی قابل مذمت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








