نفع و نقصان کے حسابات سے قطع نظر مشرق وسطیٰ ایک ایسی جنگ کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہا ہے جو ابھی شروع ہوئی ہے، گزشتہ دو دنوں کے دوران شام میں اسرائیلی جارحیت کے جو واقعات پیش آئے، ان کے گہرے اثرات صرف شام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے پر خاص طور پر ترکی پر بھی مرتب ہوں گے۔
چودہ برسوں سے جاری شامی جنگ نے ترکی کو شدید جغرافیائی و سیکورٹی خطرات سے دوچار کر رکھا ہے، جس کے باعث ترکی نے 2016 سے شمالی شام میں فوجی مداخلت شروع کی تاکہ شام کی تقسیم کو روکا جا سکے اور کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کو مشرق میں قامشلی سے لے کر مغرب میں بحیرۂ روم کے ساحل تک علیحدگی پسند راہداری قائم کرنے سے باز رکھا جا سکے۔
جب بشار الاسد کی حکومت 8 دسمبر 2024 کو گر گئی، تو یہ صرف انقلابی قوتوں کے لیے نہیں بلکہ ترکی کے لیے بھی ایک اسٹرٹیجک فتح تھی۔ اس کے بعد ترکی نے اس کامیابی کے اسٹرٹیجک اور سیکورٹی دونوں پہلوؤں سے فوائد سمیٹنے کی تیاریاں شروع کیں۔ مگر اب جو اسرائیل جارحیت پر اترا ہے، وہ شام کے لیے نئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ خطرات شام تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ترکی تک بھی پہنچیں گے، بالکل فطری طور پر۔
یہی نقطہ اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، ترکی ان نئے اور سنجیدہ خطرات سے کیسے نمٹے گا؟ کیا وہ صرف میڈیا میں مذمت اور سفارتی بیانات پر اکتفا کرے گا؟ یا پھر وہ ان اسرائیلی اقدامات اور خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں کوئی ٹھوس اقدامات بھی کرے گا؟ ان سوالات کے ساتھ ایک اور اہم بحث یہ ہے کہ ترکی کو کیا عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ شام میں اسرائیلی جارحیت کی توسیع کے ممکنہ اثرات کو روکا جا سکے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان کے بیانات ترکی کے غصے کی واضح عکاسی کر رہے ہیں۔ انہوں نے شام پر اسرائیلی حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے، اب ہم اسرائیل سے صرف یہی بات کریں گے، کیونکہ وہ امن نہیں چاہتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ترک صبر کے خاتمے کا اصل مطلب کیا ہے؟ یہ بات سب پر واضح ہے کہ جب سے طوفانِ اقصیٰ کا آغاز ہوا ہے اور ہم نے غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری دیکھی، لبنان اور شام (خصوصاً بشار الاسد کے دور میں) پر جزوی حملے ہوئے اور حالیہ دنوں میں ایران پر بھی جارحیت کی گئی، ترکی کا یہ اندازہ مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ اس جنگ کی آگ کسی دن ترکی تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
ترکی کے سرکاری و سیاسی بیانات، خاص طور پر صدر رجب طیب اردوان اور قومی تحریک پارٹی کے سربراہ دولت باہچلی نے واضح اشارے دیئے ہیں کہ کسی بھی وقت ترکی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم ہو سکتا ہے۔ درحقیقت یہی خدشہ ان وجوہات میں سے ایک تھا جس کی بنیاد پر باہچلی نے پچھلے سال کے آخر میں اپنی مہم کا آغاز کیا تاکہ ترکی کو دہشت گردی سے پاک کیا جا سکے۔ اس مہم کا نقطہ عروج PKK (کردستان ورکرز پارٹی) کی جانب سے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا، تاکہ ترکی کے اندرونی محاذ کو متحد اور مستحکم کیا جا سکے۔
یہ بحثیں ترکی کے قوم پرست اور مذہبی رجحان رکھنے والے صحافیوں اور لکھاریوں کے مضامین میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ترک کارکنوں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے ذریعے بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ترکی میں ایک عمومی احساس موجود ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کا امکان کسی بھی وقت حقیقت بن سکتا ہے، تاہم ترکی اس جنگ کو ٹالنے یا مؤخر کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
وزیر خارجہ ہاکان فدان نے اپنی پریس کانفرنس میں اسرائیل کی پالیسیوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتائج یہ ہوں گے کہ سب جل کر راکھ ہو جائیں گے، اسرائیل بھی اس سے بچ نہیں پائے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، خاص طور پر امریکہ، یورپی یونین اور خطے کے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی اقدامات پر غیر معمولی حساسیت کا مظاہرہ کریں اور ان کارروائیوں کو فوراً روکا جائے، وگرنہ خطے میں شدید اور تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔
اگر ہم ان بیانات کا تجزیہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ انتہائی سوچ سمجھ کر منتخب کیے گئے ہیں، جیسے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جانا، سب کا آگ میں جھلس جانا اور سنگین نتائج یہ سب ترکی کی جانب سے ایک سخت اور واضح وارننگ ہے، خصوصاً امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے لیے کہ اگر اسرائیل کو نہ روکا گیا تو پورا خطہ بدترین انتشار اور افراتفری کا شکار ہو جائے گا۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ اسرائیلی جارحیت، جس نے اس قدر شدت اختیار کی ہے، وہ امریکہ اور یورپی دارالحکومتوں کی غیر مشروط حمایت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔
ترکی کے پاس متبادل راستے؟
یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ ترکی اس وقت ایک انتہائی نازک اور مشکل اسٹرٹیجک صورت حال سے دوچار ہے۔ وہ دراصل یہ چاہتا تھا کہ شام کی سرحد پر اگلے چند سال امن قائم رہے تاکہ ترکی کو داخلی اور خارجی سطح پر کچھ محاذوں پر سانس لینے کا موقع ملے۔ خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ دورِ صدارت میں ترکی یہ امید رکھتا تھا کہ وہ امریکی پابندیاں ختم کروا سکے، ایف-35 طیاروں کے پروگرام میں دوبارہ شامل ہو سکے، پی کے کے (PKK) کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر سکے اور معاشی تعلقات کو فروغ دے کر تجارتی تبادلہ میں اضافہ کر سکے۔ مگر حالات نے رخ بدل دیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں نے انقرہ کے پالیسی سازوں کے لیے کئی نئی مشکلات کھڑی کر دیں۔ اب ترکی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اُسے اپنے قومی مفادات، سلامتی اور سفارتی اہداف میں توازن پیدا کرنا ہوگا یا پھر کسی ممکنہ بڑے تصادم کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
شام کی ریاست اگر کسی مرحلے پر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی تو یہ نہ صرف اناطولیہ (ترکی) کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہوگا بلکہ اس کے اثرات یورپی دارالحکومتوں تک بھی دکھائی دیں گے، جیسا کہ گزشتہ چودہ سالہ شامی جنگ کے دوران ہم دیکھ چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پس منظر میں ترکی کو فوری طور پر چند اہم اسٹرٹیجک اقدامات کی ضرورت ہے۔
اوّل: علاقائی سطح پر متحد موقف کی تشکیل
ترکی کو چاہیے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مشترکہ موقف اختیار کرے، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ جو عالمی اثر و رسوخ کے اہم ذرائع رکھتے ہیں، جیسے توانائی کا ہتھیار (تیل و گیس)، مالیاتی سرمائے کا کنٹرول اور بین الاقوامی آبی گذرگاہوں اور تجارتی راستوں پر گرفت۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان کی اس حوالے سے دیئے گئے بیانات اس شعور کے غماز ہیں کہ ترکی اس اجتماعی سفارتی عمل کو اہمیت دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اردن، سعودی عرب اور امریکیوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ہم ایک دوسرے سے سنجیدہ مشاورت کر رہے ہیں۔ تمام فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نیتن یاہو کے اقدامات خطے کے لیے کتنی بڑی مشکلات پیدا کریں گے۔
اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ترکی نے فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا اجلاس استنبول میں بلایا۔ اب شام کے معاملے میں بھی ترکی کو ایسا ہی علاقائی اتحاد اور یکجہتی ظاہر کرنی ہوگی، کیونکہ یہ درحقیقت ترکی کی قومی سلامتی کی حمایت کا ایک غیر علانیہ اظہار ہوگا۔
دوم: قسد (SDF) کے مسئلے کا فوری حل
ترکی کو چاہیے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے قواتِ سوریہ الدیمقراطیہ (SDF) کی فائل بند کرے۔ کیونکہ یہ علیحدگی پسند تنظیم ترکی کی جنوبی سرحدوں کے ساتھ قائم ہے اور ترک قومی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ بن چکی ہے، خاص طور پر جبکہ اس کے اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ اسرائیل شام کے جنوب سے لے کر شمال مشرق تک ایک محفوظ زمینی راہداری قائم کرنے کی کوشش میں ہے تاکہ وہ “قسد” کو مالی اور عسکری مدد فراہم کر سکے۔ یہ راہداری نہ صرف ترکی کی سلامتی بلکہ شام کی وحدت کے لیے بھی شدید خطرہ ہے اور اس کا تدارک ترکی کے لیے ایک حیاتیاتی دفاعی ترجیح ہونا چاہیے۔
ترکی کے لیے شام میں موجود مسلح گروہوں، خاص طور پر قسد (SDF) اور وحداتِ حمایة الشعب (YPG) کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ گروہ شام کے اندر علیحدگی پسند تحریکوں کو فعال طور پر سہارا دیتے ہیں۔ اس کی تازہ مثالیں: السویداء کے حالیہ واقعات اور مارچ میں ساحلی علاقوں میں پیش آنے والے فسادات ہیں۔ ان گروہوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ وقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت ختم ہو جائے اور ڈیموکریٹ حکومت دوبارہ برسر اقتدار آئے، کیونکہ ڈیموکریٹس کے ساتھ ان کے تعلقات زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں، جبکہ ترکی اور ڈیموکریٹس کے درمیان اکثر تناؤ اور غیر ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
ترکی ان تمام حقائق سے بخوبی آگاہ ہے، اسی لیے وزیر خارجہ ہاکان فدان کی تنبیہات نہایت دوٹوک اور سخت ہیں۔ انہوں نے کہا: “یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ وحداتِ حماية الشعب کچھ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ہم ان کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ احتیاط سے کام لیں، ان غیر یقینی اور حساس حالات کا فائدہ نہ اٹھائیں، ورنہ ان کی یہ موقع پرستی ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔”
ترکی کو یہ امید ہے کہ یہ شامی گروہ اپنے ہتھیار ڈال کر اور خود کو تحلیل کر کے حزب العمال (PKK) کے ساتھ امن عمل کا حصہ بنیں گے۔ لیکن ساتھ ہی ترکی اس امر سے بھی باخبر ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ترکی خود یا شامی حکومت کے ساتھ مل کر اس معاملے کا خاتمہ کرے گا۔
سوم: ترکی اور شامی حکومت کے مابین دفاعی معاہدہ
ترکی کو چاہیے کہ وہ شامی ریاست کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ کرے، جس کی بدولت ترکی کی فوج شام میں قانونی حیثیت سے موجود رہے اور ترکی کو شامی فوج کی تربیت اور بحالی کا اختیار بھی حاصل ہو۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد سے اس طرح کی تجاویز پر بہت سی باتیں ہو چکی ہیں، مگر علاقائی حساسیتیں اور سیاسی حساب کتاب نے اب تک اس معاہدے پر عملدرآمد کو روک رکھا ہے۔ مگر حالیہ اسرائیلی حملے نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ ایسے معاہدے کی اشد ضرورت ہے، صرف شام کی سالمیت کے تحفظ کے لیے نہیں، بلکہ ترکی کے قومی مفادات اور دفاع کے لیے بھی۔
خلاصہ یہ کہ اسرائیل کا شام پر حالیہ حملہ ترکی کے لیے ایک ابتدائی انتباہ کی حیثیت رکھتا ہے، تاکہ وہ ممکنہ جنگی صورتِ حال کے لیے ابھی سے حکمتِ عملی طے کرے اور اپنے قومی دفاع کو فعال انداز میں تیار رکھے، کیونکہ اسرائیل کے ساتھ اچانک تصادم کسی بھی وقت ممکن ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں