پاکستان کی خارجہ پالیسی نے معرکہ حق کے بعد جو اڑان بھری، اس کا ایک اہم مظہر پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ بھی رہا جس پر ستمبر 2025میں دستخط ہوئے اور جنوری 2026میں ترکیہ نے اس معاہدے میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اس تناظر میں ماضی قریب میں 18-2017 کے دوران اسلامک نیٹو کا جو تصور سامنے آیا تھا، وہ زندہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اگر ہم اس دفاعی اتحاد کے قیام کی وجوہات پر غور کریں تو خاص طور پر امریکا نے جب سے وینزویلا پر حملہ کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کو آنکھیں دکھائیں تو یورپی ممالک جو پہلے ہی یوکرین کے محاذ سے پیچھے ہٹنے پر امریکا سے نالاں نظر آتے تھے، وہ اپنی سکیورٹی کے معاملے میں امریکا پر انحصار سے گریز کی پالیسی کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئے اور ہر ملک اپنی ایک الگ راہ کا متلاشی ہوا تاکہ وہ کسی بھی دشمن کے حملے کی صورت میں بین الاقوامی سطح پر اپنی سلامتی کو یقینی بنا سکے ۔
اسی طرح اسرائیل نے جب قطر کو نشانہ بنایا تو اپنی سلامتی کیلئے امریکا کے اتحاد پر انحصار کرنے والے قطر کے ساتھ ساتھ گلف ممالک کا بھی امریکا سے بھروسہ اٹھ گیا اور یہی بھروسہ اٹھنے کا شاخسانہ تھا کہ امریکا کے دیرینہ حلیف سمجھے جانے والے سعودی عرب نے دفاعی معاہدے کو متنوع صورت دیتے ہوئے پاکستان سے ہاتھ ملالیا ہے۔ اسی کو بہترین سفارت کاری اور عسکری حکمت عملی کا نمونہ قرار دیاجاسکتا ہے۔ حالانکہ امریکا گرین لینڈ پر بلاواسطہ قابض ہونے کا فی الحال کوئی واضح ارادہ نہیں رکھتا، تاہم ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ اپنی دھمکیوں کے معاملات کو بام عرو ج تک پہنچانے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کچھ لو کچھ دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہوجائیں، جیسا کہ ایران کے معاملے میں ہوا۔
دنیا بھر میں اس نوعیت کے باضابطہ دفاعی معاہدے جنہیں ڈیفنس پیکٹ کہاجاتا ہے، بہت کم ہوئے ہیں اور امریکا کے 3 ممالک کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں جبکہ پاکستان کا سعودی عرب سے ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ترکیہ ،پاکستان، اور سعودی عر ب ایک دفاعی معاہدے کا حصہ بنیں گے تو ایک اہم عسکری قوت کے طور پر دیگر او آئی سی ممالک بھی اس اتحاد کا حصہ بننے پر توجہ دیتے ہوئے نظر آئیں گے، تاہم فی الحال پاکستان اور سعودی عرب کا یہ اتحاد سہ فریقی ہوتا ہوا نظر آتا ہے جو ایک مثبت پیشرفت ہے۔
پاکستان وہ ملک ہے جس نے معرکہ حق میں بھارت جیسے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی جس کے مقابلے میں اس دفاعی معاہدے کا حصہ بننے والے دوسرے ملک سعودی عرب کی اسٹرٹیجک اور مذہبی و معاشی اہمیت مسلمہ ہے جو او آئی سی مفادات کا اہم علمبردار بھی کہلاتا ہے جبکہ ترکیہ پہلے ہی نیٹو کا رکن ہے اور اقوام متحدہ کے باب 8 ، جو ریجنل آرگنائزیشن کا قیام وجود میں لایا جاتا ہے، مزید برآں، اقوامِ متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت ڈیفنس پیکٹ جیسے معاہدے کیے جاتے ہیں۔ تینوں ممالک کے اتحاد پر مشتمل اور دیگر ممالک کی ممکنہ شمولیت کے ساتھ ایک عالمی تنظیم تشکیل دی جاسکتی ہے جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین دفاعی معاہدے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملے کے مترادف شمار ہوگا۔
ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی قوت کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں کی مینوفیکچرنگ کی صلاحیت اور طاقت دنیا بھر میں مسلمہ ہے، جس کے ڈرونز سستے، مؤثر اور خود کار ہیں جنہوں نے یوکرین، لیبیا اورنگورنو کاراباخ میں اپنی کارکردگی ثابت کی ہے ۔ پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ جے ایف تھنڈر ، ٹینکس اور میزائل بناتا ہے اور ان تینوں ممالک کے اتحاد پر کسی قسم کی مزاحمت یا عالمی برادری کے معترض ہونے کا کوئی سبب نظر نہیں آتا، تاہم بھارت اور اسرائیل جیسے دشمن ممالک اس اتحاد کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ، کیونکہ بعض رپورٹس کے مطابق مئی 2025 کے آپریشن سندور کے خلاف پاکستان نے ترک ڈرونز کا استعمال بھی کیا تھا، تاہم دونوں ممالک نے اس اتحاد کے خلاف تاحال لب کشائی نہیں کی۔
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے پر ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے دستخط کیے، جس کی کلیدی شق یہ ہے کہ دونوں ممالک میں سے ایک کے خلاف جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثل ہے جبکہ اس معاہدے کا مقصد علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا اور مشترکہ دفاعی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج نے تصدیق کی کہ تینوں ممالک نے ایک سال کی مشاورت کے بعد معاہدے کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ پاک سعودی معاہدے سے الگ ہو گا اور خطے میں کشیدگی کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کرے گا۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں اور ترک صدر کی سوچ وسیع پلیٹ فارم کی بنیاد رکھنے کی ہے۔ بلومبرگ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اتحاد “مسلم نیٹو” کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور دیگر ممالک مثلاً مصر اور قطر کی شمولیت ایک قدرتی امر نظر آرہا ہے۔
ماضی قریب میں 2017-2018 کے دوران اسلامی نیٹو کے نام سے بھی منسوب کیا گیا سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی ملٹری الائنس (آئی ایم سی ٹی سی) کی صورت میں سامنے آیا تھا، جس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائی کرنا تھا جبکہ یہ اتحاد 41 مسلم ممالک پر مشتمل تھا ، جسے بعض تجزیہ کاروں نے اسلامی نیٹو کا نام دیا۔ اب پاک سعودی معاہدے اور ترکیہ کی شمولیت کی خواہش نے اس تصور کو زندہ کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد ایران کی توسیع پسندی اور اسرائیلی مداخلت کے خلاف مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے جیو پولیٹیکل منظر نامے کو تبدیل کر سکتا ہے ۔ یہ پیش رفت امریکی قیادت والے نیٹو کی ساکھ کمزور ہونے اور مسلم ممالک کی خودمختاری و دفاعی صلاحیتوں کا مظہر ثابت ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں