افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان کے دو گروہوں کے درمیان معدنیات کی کان کنی پر خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق مقامی ذرائع نے پیر کے روز اطلاع دی ہے کہ افغانستان کے صوبہ بدخشان کے ضلع شہرِ بزرگ کے علاقے پایانمور میں طالبان کے اپنے ہی گروپوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ جھڑپ بدخشان کے سابق ڈائریکٹر برائے معدنیات عبدالرحمان عمار اور موجودہ ڈائریکٹر شفیق اللہ حفیظی کے درمیان ایک سونے کی کان پر قبضے کے تنازعے کے باعث ہوئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کے “کندک سرحدی” (بارڈر بٹالین) کے اہلکار موجودہ ڈائریکٹر شفیق اللہ حفیظی کے حق میں لڑے، جب کہ دوسرے فریق کے طور پر عبدالرحمان عمار کے حامیوں نے مقابلہ کیا۔ اس جھڑپ میں جانی نقصان بھی ہوا، اور اطلاعات کے مطابق طالبان کی بارڈر بٹالین کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالرحمان عمار اور حفیظ اللہ حفیظی دونوں بدخشان میں طالبان کے بااثر کمانڈر شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ عمار اس وقت طالبان حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے، تاہم وہ مقامی سطح پر ایک طاقتور کمانڈر ہیں جن کے پاس اپنے مسلح افراد اور وسائل موجود ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ ضلع شہرِ بزرگ میں تین روز قبل بھی طالبان کے مختلف گروپوں کے درمیان اسی نوعیت کی جھڑپ ہو چکی تھی۔
ذرائع کے مطابق طالبان نے پیر کے روز مزید لڑائی بڑھنے سے روکنے کے لیے صوبائی دارالحکومت سے اضافی دستے شہرِ بزرگ بھیج دیے۔
ابھی تک طالبان کی مرکزی قیادت کی جانب سے اس جھڑپ کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
خیال رہے کہ طالبان حکومت نے گزشتہ چار برسوں سے افغانستان کے مختلف صوبوں میں معدنی وسائل کی کان کنی پر خاص توجہ دی ہے، تاہم ناقدین طالبان کی اس سرگرمی میں شفافیت کی کمی اور حاصل شدہ آمدن کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








