طالبان نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی افغانستان میں موجودگی سے انکار کر دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق استنبول میں جاری مذاکرات کے دوران طالبان وفد نے دوسرے روز کے اجلاس میں انتہائی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستانی طالبان افغانستان میں موجود نہیں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی وفد نے اس موقف کے جواب میں ایسے شواہد پیش کیے جن میں مارے گئے افراد کی لاشوں کی تصاویر، ان کے افغان شناختی کارڈ اور ان کی میتوں کی افغانستان واپسی سے متعلق دستاویزات شامل تھیں۔
افغانستان انٹرنیشنل کے نمائندے کے مطابق طالبان وفد ان شواہد پر کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے میزبانوں اور ثالثوں نے بھی قابلِ تصدیق شواہد کے ذریعے یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے اور طالبان کو ان کی حمایت ختم کرنی چاہیے تاکہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رہ سکیں۔
اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو افغانستان کی سرزمین سے طالبان حکومت کی حمایت کے ساتھ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹوں میں بھی افغانستان میں ٹی ٹی پی کمانڈروں اور جنگجوؤں کی وسیع موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم افغان طالبان ہمیشہ اس دعوے کی تردید کرتے رہے ہیں۔
طالبان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پیر کو استنبول میں تیسرے روز میں داخل ہو گیا۔ اس سے قبل پہلا دور دوحہ میں طالبان اور پاکستان کے وزرائے دفاع اور انٹیلیجنس سربراہان کی سطح پر منعقد ہوا تھا، جس کا اختتام ایک معاہدے پر ہوا۔
استنبول مذاکرات میں طالبان کا چھ رکنی وفد شامل ہے جس میں رحمت اللہ نجیب (نائب وزیر داخلہ)، سہیل شاہین (طالبان کے نمائندہ برائے قطر)، انس حقانی، نور احمد نور (وزارتِ خارجہ کے سیاسی شعبے کے سربراہ)، نورالرحمن نصرت (وزارتِ دفاع کے آپریشن سربراہ) اور عبدالقهار بلخی (ترجمان وزارتِ خارجہ) شامل ہیں۔
پاکستانی وفد سات ارکان پر مشتمل ہے، جن میں سفارت کار اور انٹیلیجنس ایجنسی کے نمائندے شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








