گلاسگو یونیورسٹی میں ہونے والی نئی تحقیق نے اس پرانے خیال کو چیلنج کیا ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس ایک لاعلاج اور پوری زندگی ساتھ رہنے والی بیماری ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مخصوص حالات میں اس بیماری کو جزوی طور پر واپس پلٹایا جا سکتا ہے۔
اب تک ٹائپ ٹو ذیابیطس کو ایک دائمی مرض سمجھا جاتا تھا جس میں مریض کو پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے مسلسل نگرانی، دواؤں اور دیکھ بھال کی ضرورت پڑتی ہے لیکن نئی تحقیق کے مطابق مخصوص طبی اقدامات کے ذریعے بعض مریضوں کی شوگر کی سطح ایک حد تک معمول کے قریب آ سکتی ہے، جسے طبّی زبان میں “ریمی شن” کہا جاتا ہے۔
ریمی شن کیا ہے؟
ریمی شن مکمل صحت یابی یا “علاج” نہیں ہے، کیونکہ ذیابیطس کے بنیادی اسباب عام طور پر برقرار رہتے ہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ مریض کی شوگر کنٹرول میں ہے اور وہ ایک مقررہ مدت تک بغیر دواؤں یا سرجری کے اس کنٹرول کو برقرار رکھ سکتا ہے۔
اس دوران کئی مریض اپنے ڈاکٹر کی نگرانی میں شوگر کی دوائیں کم یا مکمل طور پر بند بھی کر سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق پاکستان میں ذیابیطس کے تیزی سے بڑھتے ہوئے مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
ٹائپ ٹو ذیابیطس دو بنیادی عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، انسولین کے خلاف جسم کی مزاحمت اور لبلبے کے خلیوں کی کارکردگی میں کمی۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ جگر اور لبلبے میں چربی جمع ہونا ان دونوں مسائل کو مزید بگاڑتا ہے۔
جب جسم میں زائد چربی کم ہو جاتی ہے، تو انسولین بنانے اور استعمال کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے، جس سے کچھ مریضوں میں شوگر کی سطح بتدریج معمول کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








