متحدہ عرب امارات میں ویزہ قوانین میں بڑی تبدیلیاں، وزٹ ویزہ کیلئے نئی شرط جان لیں

تازہ ترین

تازہ ترین

UAE Sets Minimum Salary Requirement for Visit Visa
FILE PHOTO

متحدہ عرب امارات نے وزٹ ویزہ کے نظام میں نمایاں تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت چار نئی ویزہ کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں اور کئی موجودہ پرمٹس کی شرائط و مدت میں ترمیم کی گئی ہے۔

یہ فیصلے فیڈرل اتھارٹی فار آئیڈینٹٹی، سٹیزن شپ، کسٹمز اینڈ پورٹ سکیورٹی (آئی سی پی) کی جانب سے کیے گئے ہیں۔

نئے ضوابط کے مطابق اب کوئی بھی مقیم شخص اپنے قریبی اہل خانہ کو اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم ماہانہ 4 ہزار درہم تنخواہ کا حامل ہونا لازمی ہے۔

دوسری یا تیسری ڈگری کے رشتہ داروں کے لیے یہ شرط 8 ہزار درہم ماہانہ مقرر کی گئی ہے جبکہ دوستوں کو اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم 15 ہزار درہم تنخواہ لازمی ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات شفافیت بڑھانے، ہنر مند افراد کو راغب کرنے اور معیشت کو مزید متنوع بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

وزٹ ویزہ کی مدت اور توسیع
نئے فریم ورک کے تحت وزٹ ویزہ کی چھ مختلف کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں جن میں مدت اور توسیع کے حوالے سے واضح ضابطے شامل ہیں۔ اس کا مقصد درخواست دہندگان کے لیے طریقہ کار کو آسان اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

نئی ویزہ کیٹیگریز
چار نئی کیٹیگریز میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین، تفریحی صنعت، تقریبات میں شرکت، اور کروز شپ و دیگر تفریحی جہازوں کے ذریعے سیاحت کے ویزے شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایک سال کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائشی پرمٹ بھی دیا جائے گا جسے مخصوص شرائط کے تحت بڑھایا جاسکتا ہے۔

غیر ملکی بیوہ خواتین اور طلاق یافتہ خواتین کو بھی بغیر اسپانسر کے رہائش کا ویزہ مل سکے گا جسے مقررہ اصولوں کے مطابق تجدید کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح بزنس ایکسپلوریشن ویزہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے لیے درخواست گزار کو مالی حیثیت، غیر ملکی کمپنی میں ملکیت یا عملی شمولیت اور پیشہ ورانہ سرگرمی کے شواہد فراہم کرنا ہوں گے۔

ٹرک ڈرائیورز کے لیے نیا ویزہ نظام
ٹرانسپورٹ اور فریٹ کمپنیوں کے لائسنس یافتہ اسپانسر کی صورت میں ٹرک ڈرائیورز کو سنگل اور ملٹی پل انٹری ویزہ جاری کیا جائے گا۔ اس کے لیے مالی ضمانتیں، فیسیں اور ہیلتھ انشورنس لازمی ہوں گی۔

وسیع تر مقاصد
آئی سی پی کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل سہیل سعید الخیلی نے کہا کہ یہ نئی ویزہ کیٹیگریز اور ترامیم مقامی، علاقائی اور عالمی رجحانات کے تجزیے اور متعلقہ فریقین کی آراء کی روشنی میں کی گئی ہیں۔

ان کے مطابق یہ اصلاحات متحدہ عرب امارات کو ایک عالمی مرکز کے طور پر مزید پرکشش بنانے، ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں کو سہارا دینے، تجارت اور سیاحت کو فروغ دینے اور مقیمین و سیاحوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

مسافروں کے لیے الرٹ! جانیں ایمریٹس ایئرلائن کی نئی حیران کن پابندی کیا ہے

Related Posts