علماء اصلاح معاشرہ کیلئے کردار ادا کریں

تازہ ترین

تازہ ترین

وزیراعظم نے علماء اور مشائخ پر زور دیا ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں،دورہ کراچی کے موقع پر عمران خان نے علماء اور مشائخ کے وفد سے ملاقات کی،اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت، اساتذہ اور علماء کو معاشرے میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کو روکنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔

علمائے کرام نے ناموس رسالت ﷺ، اسلامو فوبیا ، ختم نبوت اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہااوروزیراعظم کو ریاست مدینہ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی حمایت کا مکمل یقین دلایا۔

دنیا کے ہر ملک میں مسائل ہوتے ہیں اور وہ مل بیٹھ کر حل بھی کر لیے جاتے ہیں، پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو آزادی حاصل ہے اور سب متحدہیں لیکن مگر ہمارے دشمن چھوٹے چھوٹے معاملات کو ہوا دیکر ہمارے خلاف پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔

بین المذاہب ہم آہنگی ہمارے معاشرے کا حساس موضوع ہے جسے کسی بھی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اِس موضوع پر بات کرنے سے ہمیشہ سے گریز کیا جاتا رہا ہے۔

بین المذاہب ہم آہنگی قوتِ برداشت کی علامت ہے، یہ اِس بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی عدم اطمینان میں مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے مابین پُرامن بقائے باہمی، امن اور خوشحالی کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں بیشتر تشدد دوسرے عقائد کے بارے میں غلط فہمیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں، گزشتہ کچھ عشروں کے دوران، مذہبی رہنماؤں کے ذریعہ خصوصاً نوجوانوں میں فرقہ وارانہ تشریحات کے فروغ نے تنازعات کو جنم دیا، ایسے افراد یا گروہ پیدا ہوئے جنہوں نے دوسرے مذاہب کی تعلیمات کو مسخ کرنے کی کوشش کی لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں تمام مسائل کے حل کیلئے ڈائیلاگ کو فروغ دیا جارہا ہے اور ریاست یہ جان چکی ہے کہ اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہے تو تمام مذاہب اور ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے تو سب کو ڈائیلاگ کی طرف آنا ہوگا۔

پاکستان متنوع ثقافتی، نسلی اور مذہبی پسِ منظر کے لوگوں کا گھر ہے اوروقت کی ضرورت ہے کہ ہم تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ انصاف اور یکساں سلوک کریں، کثیر مذہبی ریاست کی حیثیت سے پاکستان مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کسی بھی طرح کے امتیازی سلوک، عدم توازن اور اُنہیں نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہے۔

یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان میں اقلیتیں محفوظ ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنی ایمانی، روحانی اور معاشرتی زندگی میں ترقی کر رہی ہے۔ مسجد، مندر، گرجا گھر، گوردارہ سب کھلے ہیں اور سب کو ہی آزادی ہے کہ وہ اپنی اپنی عبادتگاہوں میں جاکر اپنے مذہبی فرائض سرانجام دیں اور جہاں مسائل درپیش ہیں وہاں ہم آہنگی سے معاملات کو حل کیا جائے ، اس مقصد کے حصول کیلئے علماء کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگا۔

Related Posts