اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں مرکزی ملزم عمر حیات پر باضابطہ طور پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
یہ کارروائی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کی عدالت میں ہوئی، جہاں پولیس نے ملزم کو پیش کیا۔
سماعت کے دوران جج نے عمر حیات پر الزامات عائد کیے تاہم ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
ثنا یوسف کے قاتل نے اعتراف جرم کرلیا، قتل کی اصل وجوہات سامنے آگئیں
واضح رہے کہ تین جون کو اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 سالہ عمر حیات عرف کاکا مسلسل ثنا یوسف کو دوستی کے لیے اصرار کر رہا تھا لیکن بار بار انکار کے بعد اس نے انتہائی قدم اٹھایا۔
عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے روز ثنا یوسف نے ملزم کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ تم مشتعل ہو رہے ہو، یہاں سے چلے جاؤ، سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، براہِ کرم یہاں سے نکل جاؤ مگر چند لمحوں بعد فائرنگ کی آواز گونجی اور ثنا یوسف موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں۔
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے! سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز لیکن ثنا یوسف کے جنازے کتنے لوگ شریک؟
فائرنگ کے نتیجے میں ثنا یوسف کو دو گولیاں لگیں جبکہ ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔ لاش کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے پر اسے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ سمل میں قتل کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور اب عدالت میں باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو چکا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








