چین اور امریکا کی بڑھتی ہوئی مخاصمت

تازہ ترین

تازہ ترین

 چین دنیا کاسب سے بڑا مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ کرنے والا ملک بن کر ابھرا ہے، چین نے بہت خاموشی اور سرعت سےاپنے معاشی اہداف کا حصول ممکن بنایا ہے اور یہی نہیں بلکہ چین معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی عسکری قوت میں بھی بتدریج سالانہ 10 فیصد اضافہ کرتا رہا ہےاور خاص طور چین نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے بعد دنیا میں اپنے ٹریڈ اینڈکامرس کی ترقی کیلئے ایک جال بچھاتا دکھائی دیتا ہے۔

چین کاکھربوں ڈالر کا یہ منصوبہ تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکا اور ان کے تمام پالیسی ساز اب تلملاہٹ کا شکار ہوتے جارہے ہیں اور اس تلملاہٹ میں امریکا نے ایسے معاہدے شروع کردیئے ہیں جوکہ ناصرف اس خطے کیلئے خطرناک ہیں بلکہ اقوام عالم کیلئے خطرات پیدا کرسکتے ہیں۔

حال ہی میں امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے ایک عسکری معاہدہ کیا ہے جس میں خطے کو جوہری ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل کیا جارہا ہے اورآسٹریلیا کو نیوکلیئر پاور سے چلنے والی آبدوز دی جارہی ہیں جبکہ جوہری طاقت کی حامل آبدوزویں چین سمیت خطے کے کسی ملک کے پاس نہیں ہیں لہٰذااس آبدوز کی وجہ سے چین کی کمزوری کو اجاگر کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ سب میرین نیوکلیئر آبدوز ہے جو مہینوں خاموشی سے پانی میں رہ سکتی ہے اور دنیا کے مختلف جاسوسی آلات بھی اس آبدوز کی نشاندہی یاتلاش نہیں کرسکتے۔

حالات کے تناظر میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ماضی میں جیسے امریکا نے خلاء میں سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم چین اور روس کی طرف سے خلاؤں میں امریکی ہتھیاروں کے مدمقابل آنے کے بعد امریکا نے اپنی برتری برقرار رکھنے کیلئے اب بحرہند اور بحر اوقیانوس میں اپنے ہمنواؤں کے ساتھ ملکر اپنی قوت میں اضافہ کرنے کیلئے نیوکلیئر آبدوز کی موجودگی یقینی بنانا چاہتا ہے تاکہ بوقت ضرورت چین کیخلاف اس کا استعمال کیا جاسکے۔

یہ نیوکلیئر آبدوز متعارف کرانے کے بعد خطے میں ایک بار پھر جوہری ہتھیاروں کی جنگ تیز ہوجائیگی اور شمالی کوریا نے بھی ناقابلِ شناخت بیلاسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے گوکہ یہ میزائل جاپان کے اقتصادی زون سے باہر سمندر میں گرا ہے تاہم اب ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ شمالی کوریا کے پاس نیوکلیئر بم موجود ہے۔

تمام تر حالات کے پیش نظر دیکھا جائے تو خطے میں بہت زیادہ حرارت پیدا ہونا شروع ہوچکی ہے اور آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کی طرف نظر دوڑائی جائے توپہلے ہی چار قومی اتحاد جن میں امریکا، بھارت ، جاپان اورآسٹریلیاشامل ہیں جبکہ انہوں نے چھوٹے ممالک کو بھی ساتھ ملا رکھا ہے جس کی وجہ سے چین نے اس اتحاد پر اعتراض بھی اٹھایا اور اب ایسا لگتا ہے کہ حالات کے تناظر میں چین اپنے اتحاد کو مزید مضبوط بنانے پر مجبور ہوجائیگا اور چین کا سب سے بڑا اتحادی پاکستان ہے۔

مستقبل میں اگر جنگوں کی بات کی جائے تو تمام بڑے اور بااثر ممالک زمینی و سمندری جنگوں کے لحاظ سے آمنے سامنے لڑی جانیوالی جنگ کیلئے تو ایک دوسرے کے برابر ہیں، اگر چین کے پاس جنگی جہاز کم ہیں تو ان کے پاس چھوٹے فریگیٹ دور تک مار کرنے والے جہاز موجود ہیں جو کہیں سے بھی اچانک نمودار ہوکر امریکی جہازوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں جبکہ فضاؤں میں بھی سخت مقابلہ ہوسکتا ہے کیونکہ ایئراسپیس ٹیکنالوجی بہت بڑھ چکی ہے۔حریف ممالک نے مستقبل کے چیلنجز کے پیش نظر اپنی برتری کوبڑھانے کیلئے اب سمندر کی تہوں میں بھی اپنی ٹیکنالوجی اور قوت کو وسعت دینا شروع کردی ہے۔

بحرہند میں لائی جانیوالی آبدوز ہائی ان رچ یورینیم (ایچ ای یو) سے چلنے والی سب میرین کہلاتی ہے اور اس میں موجودری ایکٹر اس کو کئی کئی ماہ تک نیوکلیئرفیول مہیا کرتا ہے ۔امریکا اس کے ساتھ ہی فرانس کو رضامند کرنے کی کوشش کررہا ہے جس میں کسی حد تک کامیابی حاصل ہوچکی ہے۔فرانس کی ناراضگی کا سبب آسٹریلیا کی طرف سے آبدوز کی خریداری کا معاہدہ منسوخی تھا ا ور لگتا یوں ہے کہ فرانس نیٹو کا مضبوط ملک ہونے کی وجہ سے امریکی اتحاد کا دوبارہ ہمنوا بن جائیگا۔

تمام تر چیزوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بڑھتی ہوئی حدت و حرارت میں مڈبھیڑ اور جھڑپ کا امکان ہے جبکہ دوسری سرد جنگ کے پیش نظر ہمیں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہوکہ پاکستان بڑی قوتوں کے درمیان جاری مخاصمت کے دوران سنگین مشکلات سے دوچار نہ ہوجائے۔

Related Posts