برازیل کی فوجی امور کی تجزیہ کار اور دفاعی ماہر پیٹریشیا مارنز نے ایران کے میزائل ذخائر کے بارے میں موجود مغربی اندازوں کو چیلنج کرتے ہوئے ایسا ڈیٹا پیش کیا ہے جو تجزیہ کاروں اور سکیورٹی حلقوں کو حیران کر رہا ہے۔
مارنز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ان کے تخمینے کے مطابق ایران کے پاس اس وقت 17 ہزار سے زائد بیلسٹک اور کروز میزائل موجود ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے پاس فعال اور ریزرو یونٹس سمیت مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار میزائل موجود تھے جن میں 7–8 ہزار بیلسٹک اور 12–13 ہزار کروز میزائل شامل تھے۔
How many missiles does Iran stilll have?
During the 12-day war, I estimated Iran’s missile stockpile at around 20,000, based on the number of different models and the years they entered production. Of that total, I calculated approximately 7,000 to 8,000 ballistic missiles and… pic.twitter.com/colHgn2INz
— Patricia Marins (@pati_marins64) April 9, 2026
پیٹریشیا مارنز نے تاریخی پس منظر بھی پیش کیا کہ ایران نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں شہاب-2 میزائل کی تیاری شروع کی اور یہ عمل تقریباً 15 سال جاری رہا۔ بعد ازاں 2004 سے 2008 تک شہاب-3 کی پیداوار کی گئی اگرچہ ابتدائی ماڈلز میں درستگی کے مسائل تھے لیکن 2015 میں ایک بڑا جدیدکاری پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت گائیڈنس سسٹمز اور وار ہیڈز کو جدید بنایا گیا جبکہ ہزاروں پرانے میزائل ریزرو میں موجود ہیں۔
مارنز کے مطابق اگر ہر ماڈل کی سالانہ پیداوار کا محتاط اندازہ صرف 100 یونٹس بھی لگایا جائے تو پچھلے 15 سالوں میں ایران کا میزائل ذخیرہ 17 ہزار یونٹس سے تجاوز کر جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2010 تک ایران تقریباً 12 مختلف میزائل ماڈلز تیار کر رہا تھا اور 2015 کے بعد سے کم از کم 8–12 نئے ماڈلز بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن کی رینج 1000 کلومیٹر سے زائد ہے۔ اس میں سومار اور مشکوۃ جیسے کروز میزائل اور عماد اور سجیل جیسے ٹھوس ایندھن والے بیلسٹک میزائل شامل ہیں جن کی رینج اب 2000 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
پیٹریشیا مارنز نے مغربی تھنک ٹینکس کے ان دعووں کو بھی رد کیا کہ فروری تک ایران کے پاس صرف 2500 میزائل تھے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ روس یوکرین میں بھرپور جنگ لڑنے کے باوجود ہر سال تقریباً 2500 درست نشانہ لگانے والے میزائل تیار کر رہا ہے لہٰذا یہ کہنا کہ ایران کے پاس 30 سال کی میزائل پیداوار کے باوجود صرف 2500 میزائل ہیں بالکل غیر منطقی ہے۔
مارنز کے مطابق ایران نے میزائل سیکٹر کے لیے 300 سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ایک مکمل دفاعی ماحولیاتی نظام قائم کیا ہے جسے مختلف دفاعی شعبوں میں مزید 6500 نالج بیسڈ کمپنیوں کی معاونت حاصل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس اتنے بڑے ذخائر موجود ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








