ایران کے جوہری پروگرام، امریکا اور اسرائیل کی سخت پالیسیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے امریکا ایران کشیدگی پر مثبت سفارتی پیشرفت کی مدھم امید جنم لے رہی ہے، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جارحانہ مؤقف اپناتے ہوئے فوجی بحری جہازوں اور عسکری سازوسامان کی بڑی تعداد خطے میں بھیجی اور ساتھ ہی مذاکرات کا عندیہ دیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بہت بڑے اور طاقتور جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور یہ اچھا ہوگا اگر انہیں استعمال نہ کرنا پڑے، جبکہ وہ ایران سے بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جوائنٹ کمپریہینسو پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) معاہدہ، جو امریکا، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد 2015ء میں طے پایا تھا، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، مگر امریکا کے 2018 میں اس معاہدے سے نکلنے کے بعد ایران نے یورینیم افزودگی کا عمل دوبارہ تیز کر دیا، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا۔
امریکا اور اسرائیل کا موجودہ مؤقف یہ ہے کہ ایران کو کسی بھی سطح پر اور کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے چاہے وہ سول مقاصد کیلئے ہی کیوں نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ میزائل کی رینج میں کمی لانے کا بھی مطالبہ کیا، جبکہ ایران اس مطالبے کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا ہے اور بین الاقوامی قانون کے تحت سول جوہری پروگرام کو اپنا جائز حق سمجھتا ہے۔ ایران کے نزدیک یورینیم افزودگی پر مکمل پابندی ایران کے قومی وقار اور خودمختاری کے لیے شدید دھچکا ہوگی، جسے قبول کرنا ممکن نہیں۔
امریکی پالیسی سازی میں اسرائیلی لابی کا اثر و رسوخ ایک معروف حقیقت ہے، جو ایران کی جوہری اور عسکری صلاحیت کو مستقل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے عرصہ دراز سے کوشاں ہے۔ اسی پالیسی کے تناظر میں بحیرہ عرب اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی میں اضافہ، سائبر وارفیئر کی تیاری، ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے منصوبے اور ایرانی عسکری و سیاسی قیادت کی نگرانی کے اقدامات سامنے آئے ہیں، جو ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے جامع تیاری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
امریکاکی کوشش ہے کہ حملے کی صورت میں ایران کے اندر احتجاجی تحریکیں ان کے گراؤنڈ ایسٹس کی معاونت سے دوبارہ شدت اختیار کریں اور داخلی اداروں پر دباؤ بڑھایا جائے، جسے بیرونی قوتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں واضح کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا شدید اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔جوائنٹ کمپریہنسو پلان آف ایکشن کے حوالے سے جون 2025 کے ایران پر حملوں نے ایران کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث سفارتی عمل پیچیدہ ہو چکا ہے۔
فوجی طاقت کے توازن کا جائزہ لیا جائے تو امریکا دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوت ہے، جس کا دفاعی بجٹ 2026 میں تقریباً 838 ارب سے ایک ٹریلین ڈالر تک ہے ، جسے امریکی صدر ٹرمپ سال 2027 تک 1.5ٹریلین ڈالرز تک لے جانے کا اعلان کرچکے ہیں، جبکہ ایران کا دفاعی بجٹ تقریباً 7 سے 10 ارب ڈالر کے درمیان ہے، جو طاقت کے عدم توازن کو واضح کرتا ہے۔ تاہم ایران کے پاس 2,000 کلومیٹر تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ہائپر سونک میزائلز بھی موجود ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور خطے میں طاقت کے توازن کو کسی حد تک برقرار رکھتے ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے بھی محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں برطانیہ اور فرانس نے سفارت کاری اور مذاکرات پر زور دیا اور براہ راست فوجی کارروائی کی مخالفت کی، جبکہ دیگر یورپی ریاستوں نے واضح مؤقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔ تشویشناک طور پر مشرق وسطیٰ میں کسی بھی بڑے تنازع کے عالمی اثرات انتہائی وسیع ہوں گے، کیونکہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کے اہم راستے ہیں، جہاں کسی بھی کشیدگی سے عالمی توانائی منڈی اور معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران کے ممکنہ اتحادی روس اور چین بھی ایران کو امریکا کے مقابلے میں سفارتی اور اسٹریٹجک سطح پر حمایت فراہم کر سکتے ہیں، جس سے عالمی طاقتوں کے درمیان سرد جنگ نما صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو جب بھی امریکی معیشت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہوا، امریکا نے کسی نہ کسی تنازع یا جنگ میں شمولیت اختیار کی، جیسے 1898 کی اسپین کے خلاف جنگ، 1990 کی خلیجی جنگ اور دوسری عالمی جنگ، جن سے امریکی معیشت کو تقویت ملی۔ موجودہ دور میں بھی امریکا اپنی عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ چین اور روس کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو محدود کرنا امریکی پالیسی کا بنیادی ہدف ہے۔ چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ اور تجارتی ملک بن چکا ہے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے اپنے عالمی اثرورسوخ میں اضافہ کررہا ہے ، جبکہ روس یوکرین میں پیش قدمی کے ذریعے یورپی سکیورٹی نظام کو چیلنج کر چکا ہے اور تمام یورپی ممالک روس کے خلاف کھل کر یوکرین کی عسکری مدد سے قاصر نظر آتے ہیں، کیونکہ اس سے تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا خدشہ ہے۔ اس تناظر میں ایران امریکا اور اسرائیل کے دباؤ کے باوجود مزاحمت کرنے والا اہم فریق ہے، جو خطے میں طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
موجودہ عالمی منظرنامے میں امریکا، ایران، اسرائیل، چین اور روس کے درمیان تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں، اور کسی بھی غلط اقدام سے علاقائی تنازع عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایران سے جوہری تنازعہ، امریکی دھمکیاں اور علاقائی کشیدگی عالمی طاقتوں کی جاری کشمکش کا ایک پہلو ہیں، جو عالمی نظام کی تبدیلی، طاقت کے نئے مراکز کے ابھار اور بین الاقوامی نظام کے عدم استحکام کی عکاسی کرتے ہیں اور یہ وہ صورتحال ہے جس کی موجودگی میں پاکستان کو اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے بہتر کرنا ہوگا اور ایران امریکا کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کردیا تو خطے کی معاشی صورت جو پہلے ہی کمزور سے مخدوش ہوچکی ہے، تباہ حال اور بربادی کی جانب گامزن نہ ہوجائے ، جس سے پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے قومی مفادات وابستہ ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








